عدالت نے بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے پرانے بقایاجات کی وصولی کے لیے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کو مشروط طور پر منظور کر لیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اضافہ صرف اس صورت میں ہوگا جب وہ واجب، کِفایتی اور مقررہ حد کے اندر ہو۔
ڈی ای آر سی کو روڈ میپ بنانے کی ہدایت
عدالت نے دہلی الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایک تفصیلی منصوبہ تیار کرے جس میں واضح ہو کہ قیمتوں میں اضافہ کب، کیسے اور کتنا کیا جائے گا۔ اس فیصلے کا اطلاق دہلی سمیت اُن تمام ریاستوں پر ہوگا جہاں بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں سالوں سے بقایا جات کی منتظر ہیں۔
کمپنیاں ریگولیٹری اثاثہ کے بوجھ سے پریشان
بجلی کمپنیوں کے مطابق، بجلی کی خریداری، فروخت اور ترسیل پر آنے والا خرچ ان رقوم سے زیادہ ہے جو صارفین سے وصول کی جاتی ہیں۔ اس مالی فرق کو ریگولیٹری اثاثہ کہا جاتا ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین پر آتا ہے۔
دہلی میں 20 ہزار کروڑ اور تمل ناڈو میں 87 ہزار کروڑ کا بقایا
رپورٹس کے مطابق دہلی میں گزشتہ 17 سال سے زیر التوا بقایا اب 20 ہزار کروڑ روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ تمل ناڈو میں یہ رقم 87 ہزار کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔ اس کا اثر آنے والے برسوں میں بجلی کے نرخوں میں اضافے کی صورت میں پڑے گا۔
چار سال میں واجبات ختم کرنے کی ہدایت
عدالت نے تمام ریاستوں کے ریگولیٹری اثاثے آئندہ چار برسوں میں ختم کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ ساتھ ہی ریاستی بجلی کمیشنز اور ٹریبونلز کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے بجلی سے جڑے اداروں کی کارکردگی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سُستی کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔
رہائشی، تجارتی اور صنعتی صارفین ہوں گے متاثر
فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ دہلی سمیت ملک کی تمام ریاستوں میں رہائشی، تجارتی اور صنعتی صارفین پر یکساں طور پر لاگو ہوگا۔ تاہم یہ اضافہ ریاستی بجلی ریگولیٹری کمیشنز کی مقررہ حد کے اندر ہی ممکن ہو گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

