Bharat Express DD Free Dish

Active cases of Corona in India increase: کورونا کا قہر! ہندوستان میں کورونا کے فعال معاملے بڑھ کر 3758 ہو گئے، دہلی ہائی کورٹ فکرمند

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ دہلی میں کووڈ 19 سے متاثر ایک 60 سالہ خاتون کی موت ہوگئی۔ معاملات میں اضافے کے درمیان دہلی میں یہ پہلی موت ہے۔

ملک بھر میں کووڈ 19 کےفعال معاملو ں کی تعداد بڑھ کر 3758 ہو گئی ہے، جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 360 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ وزارت صحت اور خاندانی بہبود نے اتوار یعنی 1 جون کو نئے اعداد و شمار جاری کیے ہیں۔

وزارت کی ویب سائٹ پر دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، اتوار تک کیرالہ، مہاراشٹرا اور دہلی میں بالترتیب 1400، 485 اور 436 کووِڈ-19 کے سب سے زیادہ فعال کیس درج ہوئے ہیں۔ وزارت صحت اور خاندانی بہبود کے مطابق ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ-19 کی وجہ سے 2 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس وقت ہندوستان میں کووڈ 19 کے کل 3,758 ایکٹیو کیسز ہیں، جن میں ہفتہ اور اتوار کے درمیان 363 نئے کیسز درج کیے گئے ہیں۔

کیرالہ 1400 ایکٹیو کیسز کے ساتھ کووِڈ ٹیلی چارٹ میں سرفہرست ہے، اس کے بعد مہاراشٹر (485 کیس) اور دہلی (436 کیسز) ہیں۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، کیرالہ، مہاراشٹر اور دہلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں بالترتیب 64، 18 اور 61 نئے کیس رپورٹ ہوئے۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ایک عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ دہلی میں کووڈ 19 سے متاثرہ 60 سالہ خاتون کی موت ہوگئی۔ معاملات میں اضافے کے درمیان دہلی میں یہ پہلی موت ہے۔ خاتون لیپروٹومی کے بعد آنتوں کی شدید رکاوٹ میں مبتلا تھی اور اتفاقی طور پر کووِڈ-19مثبت پائی گئی۔ (بشکریہ نیوز پورٹل، ’اے بی پی‘)

ملک میں تیزی سے بڑھ رہے کورونا کے معاملوں کو لے کر دہلی ہائی کورٹ فکرمند ہے۔ ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت سے سیمپل کلیکشن کی پالیسی پر 6 ہفتہ کے اندر اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔ پہلے یہ 12 ہفتہ کے لیے تھا، لیکن جس طرح سے کچھ دنوں میں کورونا کے معاملوں نے رفتار پکڑی ہے اس سے ہائی کورٹ نے جلد سے جلد اس پر کارروائی کرنے کو کہا ہے۔

دہلی ہائی کورٹ نے کہا کہ کورونا ابھی ختم ہونے سے کافی دور ہے، اس لیے اس کے سیمپل کلیکشن ایس او پی پر جلد سے جلد رپورٹ سونپی جائے۔ یہ حکم جج انیش دیال نے 28 مئی 2025 کو ڈاکٹر روہت جین کے ذریعہ دائر توہین کی عرضی پر سماعت کے دوران دیا۔

ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ہم نے اس پر حکم اس لیے جاری کیا تاکہ یہ ایس او پی ایس جلد سے جلد نافذ ہوں اور میٹنگ میں جو بھی فیصلہ لیا گیا وہ صحیح نتیجے تک پہنچے۔ اس کا مطلب ہے کہ عدالت چاہتی ہے کہ ریسپونڈنٹ فوراً کارروائی کرے۔ عدالت ایک توہین معاملے پر درج عرضی پر سماعت کر رہی تھی۔ یہ عرضی ڈاکٹر روہت جین نے دائر کی تھی۔ ان کا الزام ہے کہ افسروں نے 27 جنوری 2023 کو دیئے گئے عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا۔ عدالت چاہتی ہے کہ افسر اس معاملے میں تیزی دکھائیں۔

دراصل عدالت نے اس وقت جین کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو کہا تھا کہ اسے ایک شکایت کی طرح دیکھیں۔ حکومت کو 12 ہفتوں میں ان پر فیصلہ لینے کا حکم دیا گیا تھا۔ حکومت کو وجہ بتاتے ہوئے اپنا فیصلہ دینا تھا۔ جین کا کہنا تھا کہ عدالت کے حکم کے بعد بھی مرکزی حکومت نے کوئی ضابطہ نہیں بنایا۔

  بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read