کانگریس لیڈر نکھل کمار۔ فوٹو-آئی اے این ایس
پٹنہ: بہار میں ووٹوں کی گنتی کے دوران این ڈی اے کی برتری دیکھ کر کانگریس لیڈران میں مایوسی واضح طور پر دکھائی دینے لگی ہے۔ این ڈی اے کے اچھے مظاہرے کو دیکھتے ہوئے کانگریس لیڈران نکھل کمار نے اپنی پارٹی کی تنظیم کو کمزور بتایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اچھے امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا تو آج صورتحال بہتر ہوتی۔
پٹنہ میں آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نکھل کمار نے کہا کہ ہمارے تنظیم کی کمزوری کی وجہ سے ایسا انتخابی نتیجہ آ رہا ہے۔ جن امیدواروں کا انتخاب کیا گیا، وہ اچھے ہیں، لیکن اور بہتر امیدواروں کا انتخاب کیا جا سکتا تھا۔ تنظیم مکمل طور پر ناکام رہا۔
Patna, Bihar: On state Assembly elections, Congress leader and former Governor Nikhil Kumar says, “This reflects the weakness of our organization. In any election, a political party relies on its organizational strength. If the organization is weak and cannot function… pic.twitter.com/s0FMnjTytd
— IANS (@ians_india) November 14, 2025
انہوں نے کہا، ’’کسی بھی انتخاب میں ایک تنظیم ہوتی ہے جس پر ہم انحصار کرتے ہیں۔ اگر وہ کمزور ہو تو کیسے چل سکتا ہے؟ ہمارے موجودہ امیدوار اچھے ہیں، لیکن ہمیں اور بہتر امیدوار منتخب کرنا چاہیے تھا جو منتخب نہیں ہو سکے۔ انتخابات کو کس طرح لڑنا ہے، اس میں ہوشیاری سے کام کرنا چاہیے تھا۔ جو بھی سیٹیں ملیں، ان پر بہتر کام کرنا چاہیے تھا۔‘‘
بتا دیں کہ بہار میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ابتدائی رجحانات سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) تقریباً 200 نشستوں پر آگے ہے، جو کہ 122 کے اکثریتی عدد سے کافی زیادہ ہے۔ بی جے پی اکیلے 93 اسمبلی حلقوں میں آگے چل رہی ہے، جو گزشتہ 45 برسوں میں بہار میں پارٹی کی تاریخی جیت کا اشارہ ہے۔ یہ اعداد و شمار بہار کی سیاسی سمت میں ایک اہم تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



