اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں پیر کو تہلکا انڈیا نیوز کی جانب سے ’تہلکہ سنواد‘ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ یہ پروگرام ہلٹن گارڈن میں منعقد ہوا، جس میں میڈیا، سوشل میڈیا اور سماج کے مختلف شعبوں سے وابستہ افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
پروگرام میں Bharat Express News Network کے سی ایم ڈی اور ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے بطور مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس موقع پر انہوں نے ڈیجیٹل میڈیا، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) اور فیک نیوز کے بڑھتے خطرے پر تفصیلی گفتگو کی۔
اپیندر رائے نے کہا کہ ڈیجیٹل میڈیا نے جہاں عام لوگوں کو اظہارِ رائے کی طاقت دی ہے، وہیں فیک نیوز کا خطرہ بھی تیزی سے بڑھا ہے۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی اس خطرے کو مزید سنگین بنا رہی ہے، کیونکہ اس کے ذریعے جھوٹی خبر بھی بالکل سچ کی طرح پیش کی جا سکتی ہے۔ تاہم، جب حقائق کی جانچ کی جاتی ہے تو حقیقت سامنے آ جاتی ہے۔
فیک نیوز کے خلاف خصوصی پروگرام

انہوں نے بتایا کہ ان کے ادارے میں ایک خصوصی آدھے گھنٹے کا پروگرام تیار کیا گیا ہے، جس میں ناظرین کو اصلی اور فرضی خبروں کے درمیان فرق سمجھایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی بار 15 سے 20 ایسی خبریں پھیلائی جاتی ہیں، جن کا مقصد کسی فرد یا ادارے کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔
ہر ٹیکنالوجی کا سائیڈ ایفیکٹ

اپنے خطاب میں اوپیندر رائے نے کہا کہ ہر ٹیکنالوجی کے کچھ سائیڈ ایفیکٹس ہوتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ کیا جائے۔
اس پروگرام میں اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک بھی موجود رہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں انفلوئنسرز، صحافیوں اور مختلف شعبوں کے ماہرین نے شرکت کی۔
عوام اور حکومت کے درمیان رابطہ بنیادی مقصد

منتظمین کے مطابق، ’تہلکہ سنواد‘ کا مقصد سرکاری منصوبوں کو عوام تک پہنچانا اور ان کے زمینی اثرات کو اجاگر کرنا ہے۔ پروگرام میں میڈیا کے بدلتے کردار، ٹیکنالوجی کے اثرات اور معلومات کی ساکھ جیسے اہم موضوعات پر بامعنی گفتگو کی گئی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


