سرینگر، جموں و کشمیر کے نوگام پولیس اسٹیشن کے اندر ایک بڑا دھماکہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دھماکے میں 9 افراد ہلاک اور 29 زخمی ہوئے ہیں۔ عمارت کو بھی کافی نقصان پہنچا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ضبط شدہ امونیم نائٹریٹ تھانے کے احاطے میں ذخیرہ کیا گیا تھا، جس کی فارنسک ٹیم جانچ کر رہی ہے۔ شبہ ہے کہ اس امونیم نائٹریٹ نے بڑا دھماکہ کیا۔دہلی لال قلعہ دھماکے سے جموں و کشمیر کا تعلق سامنے آنے کے بعد وہاں گرفتار مشتبہ دہشت گردوں سے نوگام پولیس اسٹیشن کے احاطے میں پوچھ گچھ کی جارہی ہے۔ اس دوران جمعے کی رات دیر گئے 14 نومبر کو ہونے والے دھماکے میں متعدد پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امونیم نائٹریٹ ٹیسٹ کے لیے لایا گیا تھا، اسی میں دھماکہ ہواتھا۔
دہشت گردانہ حملہ نہیں
ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ جمعہ 14 نومبر کی رات دیر گئے نوگام پولیس اسٹیشن کے اندر یا اس کے قریب ایک دھماکہ ہوا۔ پولیس اسٹیشن کے احاطے میں اس وقت پہلے سے تباہ کیے گئے دہشت گرد ماڈیول کی تفتیش جاری ہے۔ کچھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں اسپتال لے جایا گیا۔ تصاویر مںی شعلے دکھائی دے رہے ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، صورتحال کی سنگینی واضح ہوتی گئی، اور نو افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
رات گئے تقریباً 11 بجکر 20 منٹ پر ہونے والے دھماکوں
رات گئے تقریباً 11 بجکر 20 منٹ پر ہونے والے دھماکوں نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے رہائشیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ قابل ذکر ہے کہ سرینگر کا نوگام پولیس اسٹیشن دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس سے منسلک دہشت گرد ماڈیول تحقیقات کے مرکز میں ہے۔ نوگام میں پھٹنے والا مواد امونیم نائٹریٹ بتایا جا رہا ہے جو اس ہائی پروفائل کیس کا حصہ تھا جس میں بین ریاستی دہشت گردی ماڈیول کے قبضے سے مجموعی طور پر 2,900 کلو گرام آئی ای ڈی بنانے کا مواد برآمد کیا گیا تھا جسے پولیس نے “وائٹ کالر” دہشت گردی کے طور پر بیان کیا۔ فی الحال پولیس نے کسی بھی دہشت گردی کے زاویے کو مسترد کرتے ہوئے اسے حادثاتی دھماکہ قرار دیا ہے۔ ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ “دھماکا رات میں تقریباً 11:20 بجے اس وقت ہوا جب فارنزک سائنس لیبارٹری کی ٹیم، پولیس اہلکار اور مقامی نائب تحصیلدار سٹیشن کے اندر قبضے میں لیے گئے مواد کی جانچ کر رہے تھے۔” نوگام پولیس سٹیشن رہائشی کالونی کے اندر واقع ہے اور اس مقام سے ابتدائی ویڈیوز جو سوشل میڈیا پر نمودار ہوئیں ان میں کارکنوں کو آگ بجھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

