اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پانی سے اموات کے معاملے نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ اس پورے واقعے پر اے بی پی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے علاقے کے بی جے پی کونسلر کمل بگھیلا نے انتظامیہ اور نظام پر سخت الزامات عائد کیے ہیں۔ انہوں نے صاف کہا کہ یہ واقعہ مکمل طور پر سسٹم کی لاپروائی کا نتیجہ ہے۔کمل بگھیلا کے مطابق انہوں نے آلودہ پانی کے مسئلے کی پہلی شکایت تین سال قبل درج کرائی تھی۔ اس وقت بھی علاقے کے لوگوں کو گندا اور بدبودار پانی فراہم کیا جا رہا تھا، لیکن اس کے باوجود ذمہ دار افسران نے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔
بی جے پی کونسلر نے بتایا کہ صرف زبانی ہی نہیں بلکہ تقریباً چھ ماہ قبل انہوں نے تحریری طور پر بھی متعلقہ محکموں کو شکایت دی تھی۔ اس شکایت میں واضح طور پر خبردار کیا گیا تھا کہ اگر بروقت اصلاح نہ کی گئی تو بڑا حادثہ ہو سکتا ہے، مگر افسران نے آنکھیں بند رکھیں۔کمل بگھیلا نے کہا کہ اب تک جو کارروائی کی گئی ہے اس سے وہ بالکل مطمئن نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جن افسران اور ملازمین کی لاپروائی سے لوگوں کی جانیں گئیں، ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اس معاملے میں ان کی اپنی کوئی ذمہ داری ثابت ہوتی ہے تو ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔
اموات کے اعداد و شمار پر وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک 12 افراد کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ جو لوگ اسپتال کے بجائے گھروں میں جان کی بازی ہار گئے تھے، انہیں پہلے گنتی میں شامل نہیں کیا گیا تھا، تاہم یقین دلایا کہ تمام اموات کو سرکاری اعداد و شمار میں شامل کرایا جائے گا۔بی جے پی کونسلر نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ سپلائی کیے جانے والے پانی میں کسی قسم کا کیمیکل ملا ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کی حالت بگڑی اور اموات ہوئیں۔ انہوں نے پورے معاملے کی غیرجانبدار اور گہرائی سے جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

