بہار اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسو ریویژن کے دوران ایک چونکا دینے والا معاملہ سامنے آیا ہے۔ بھاگلپور ضلع میں دو پاکستانی خواتین کے ناموں پر ووٹر آئی ڈی کارڈ جاری کیے گئے ہیں۔ اس بات کا انکشاف مرکزی وزارت داخلہ کی تحقیقات کے دوران ہوا۔وزارت داخلہ کی ٹیم غیر قانونی طور پر ہندوستان میں ویزا اوور اسٹے کرنے والے غیر ملکیوں کا پتہ لگانے میں مصروف تھی۔ اس دوران بھاگلپور میں تین پاکستانی شہریوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جن میں سے دو خواتین ایشاک چک تھانہ علاقے کے بھکھن پور گمتی نمبر 3 ٹینک لین میں رہ رہی تھیں۔
وزارت داخلہ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد پولیس ہیڈکوارٹر نے بھاگلپور کے ایس ایس پی کو تحقیقات سونپیں۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ان دونوں پاکستانی خواتین کے نام پر ووٹر شناخت کارڈ ای پک نمبر سمیت بن چکے ہیں۔ اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے بعد انتظامی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ اسپیشل برانچ کے ایس پی نے بھاگلپور کے ڈی ایم ڈاکٹر نوال کشور چودھری اور ایس ایس پی سے تفصیلی تحقیقاتی رپورٹ طلب کی ہے۔ ڈی ایم نے تصدیق کی کہ دونوں پاکستانی خواتین کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹانے کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، ایک خاتون کا نام فردوسیہ خانم ہے، جن کے شوہر کا نام محمد تفصیل احمد ہے۔ وہ رنگپور کی رہائشی ہیں اور 19 جنوری 1956 کو تین ماہ کے ویزا پر ہندوستان آئی تھیں۔ دوسری خاتون کا نام عمرانہ خانم عرف عمرانہ خاتون ہے، جن کے والد کا نام ابتال حسن ہے۔ وہ بھی تین سال کے ویزا پر ہندوستان آئی تھیں۔ ان کے علاوہ محمد اسلم نامی ایک پاکستانی شہری 24 مئی 2002 کو دو سال کے ویزا پر ہندوستان آیا تھا اور اس نے بھی آدھارکارڈ بنوا لیا تھا۔ یہ تینوں شہری طویل عرصے سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں اور ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود یہیں مقیم ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




