نئی دہلی :مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے درمیان ووٹر لسٹ ایک بار پھر سیاسی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ان معاملات کی پہلی ضمنی فہرست جاری کرنے جا رہا ہے جو عدالتی فیصلوں کی وجہ سے زیر التوا تھے۔ چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر سے اتوار کی رات تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 28 لاکھ 6 ہزار معاملات پر فیصلہ کیا جا چکا ہے، جنہیں اب منظور یا مسترد شدہ زمروں میں شامل کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق جانچ کے دوران ایک اہم حقیقت سامنے آئی ہے کہ تقریباً 34 فیصد افراد ایسے پائے گئے ہیں جو ووٹر لسٹ میں شامل ہونے کے اہل نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑی تعداد میں نام ووٹنگ کے عمل سے خارج کیے جا سکتے ہیں، جس نے سیاسی حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جن افراد کے نام فہرست سے خارج کیے جائیں گے، انہیں اپیل کا مکمل حق حاصل ہوگا۔ اس مقصد کے لیے 19 اپیلیٹ ٹریبونلز قائم کیے گئے ہیں جہاں متاثرہ افراد اپنی شکایات درج کرا سکتے ہیں اور فیصلے کو چیلنج کر سکتے ہیں ۔یاد رہے کہ 28 فروری کو جاری کی گئی حتمی ووٹر لسٹ میں تقریباً 60 لاکھ مشتبہ نام پہلے ہی ہٹا دیے گئے تھے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا کی ہدایت کے بعد اب مرحلہ وار ضمنی فہرستیں جاری کی جا رہی ہیں۔ پیر کی دوپہر تک یہ نئی فہرست تمام ضلع مجسٹریٹس اور انتخابی افسران تک پہنچا دی جائے گی، جبکہ شام تک عوام اسے الیکشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر بھی دیکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ فہرست کو بوتھ سطح، بی ڈی او، ایس ڈی او اور ڈی ایم دفاتر میں بھی آویزاں کیا جائے گا تاکہ شہری آسانی سے اپنے نام کی تصدیق کر سکیں۔
دوسری جانب فہرست کے اجرا کے بعد کسی بھی ممکنہ ہنگامے یا کشیدگی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ریاستی حکام نے مرکزی سیکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا ہے، جس میں انتخابی عمل کو پرامن بنانے کی حکمت عملی طے کی گئی۔واضح رہے کہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں ووٹنگ ہوگی، جس کے تحت 23 اپریل کو 152 نشستوں پر اور 29 اپریل کو باقی 142 نشستوں پر پولنگ کرائی جائے گی۔ الیکشن کمیشن اس بار شفاف اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تیاری میں مصروف ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




