شوپیاں (جموں و کشمیر، رئیس احمد ماگرے): جنوبی کشمیر کے اہم سیب پیدا کرنے والے ضلع شوپیاں میں موسم کے اچانک بدلتے تیور نے باغبانوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ حالیہ بے موسم بارش، تیز ہواؤں اور ژالہ باری کے باعث ضلع کے کئی علاقوں میں سیب کے باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ فصل کی کٹائی کے عروج کے موسم سے عین پہلے ہونے والے اس نقصان نے کسانوں کو بڑے اقتصادی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ متاثرہ باغبانوں نے جموں و کشمیر انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران سے موقع پر پہنچ کر فوری طور پر نقصان کا جائزہ لینے اور متاثرہ کسانوں کے لیے امدادی پیکیج کا اعلان کرنے کی اپیل کی ہے۔
پورے سال کی محنت اور سرمایہ کاری برباد
کسانوں کا کہنا ہے کہ بہتر پیداوار کی امید میں انہوں نے پورا سال باغات کی دیکھ بھال کے ساتھ مہنگی کیڑے مار ادویات اور کھادوں پر اپنی محنت کی کمائی کا بڑا حصہ خرچ کیا تھا۔ انہیں اس سال اچھی فصل اور بہتر منافع کی امید تھی، لیکن اچانک خراب ہوئے موسم نے تیار سیبوں کو وقت سے پہلے درختوں سے گرا دیا۔ اس کے علاوہ درختوں پر موجود باقی سیب بھی داغ دار ہوگئے، جس سے پھل کا معیار بری طرح متاثر ہوا ہے۔ باغبانوں کو خدشہ ہے کہ اس خراب معیار کے باعث منڈیوں میں انہیں مناسب قیمت نہیں مل سکے گی۔

انتظامیہ سے فوری سروے اور معاوضے کی اپیل
شوپیاں ضلع میں ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی بڑی حد تک سیب کے کاروبار پر منحصر ہے۔ باغبانوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے بروقت مداخلت نہیں کی تو موجودہ نقصان ایک بڑے اقتصادی بحران میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ کسانوں نے محکمہ باغبانی اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ زمینی سطح پر ٹیمیں بھیج کر نقصان کا شفاف اور فوری جائزہ لیا جائے، تاکہ متاثرہ باغبانوں کو جلد از جلد مناسب مالی معاوضہ فراہم کیا جا سکے اور وہ اس بھاری نقصان سے باہر نکل سکیں۔ واضح رہے کہ ژالہ باری سے متاثرہ سیبوں کا معیار اکثر گر جاتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں کم قیمت پر فروخت کرنا پڑتا ہے، جبکہ شدید متاثرہ پھل کی مارکیٹ میں قدر نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


