Bharat Express DD Free Dish

اے پی سی آرکی جانب سے وکلا کی ورکشاپ، ایس آئی آرپرقانونی تیاری، نوٹس، اعتراضات واپیلوں سے متعلق حکمتِ عملی پرغوروخوض

ورکشاپ کے آغازمیں ڈاکٹرمحمدعثمان نے ایس آئی آرکے حوالے سے اے پی سی آرتلنگانہ کی اب تک کی سرگرمیوں سے شرکاء کوآگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے عوامی بیداری پروگرامس، قانونی مشاورت، وکلا کے اجلاس، رضاکاروں کی شمولیت، ضلعی سطح پرکوارڈی نیشن اوردیگرضروری اقدامات کے ذریعے شہریوں کی معاونت کی تیاری کی جا رہی ہے۔

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) تلنگانہ نے 9 اگست 2026 کواسپیشل انٹینسیورویژن (ایس آئی آر) کے موضوع پروکلا کی ایک خصوصی ورکشاپ کا انعقاد کیا، جس میں وکلا، سماجی کارکنوں اورسول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ورکشاپ میں ووٹرلسٹ کی نظرثانی کے آئندہ مراحل کے دوران پیدا ہونے والے ممکنہ قانونی وعملی مسائل، شہریوں کوجاری ہونے والے نوٹس، اعتراضات، اپیلوں، ضروری دستاویزات، قانونی چارہ جوئی اورشہریوں کے آئینی وجمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے قانونی تیاری کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

ورکشاپ کے آغازمیں ڈاکٹرمحمدعثمان نے ایس آئی آرکے حوالے سے اے پی سی آرتلنگانہ کی اب تک کی سرگرمیوں سے شرکاء کوآگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم کی جانب سے عوامی بیداری پروگرامس، قانونی مشاورت، وکلا کے اجلاس، رضاکاروں کی شمولیت، ضلعی سطح پرکوارڈی نیشن اوردیگرضروری اقدامات کے ذریعے شہریوں کی معاونت کی تیاری کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس امرپرزوردیا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد ردعمل ظاہرکرنے کے بجائے پہلے ہی سے قانونی اورانتظامی تیاری مکمل کی جانی چاہئے، تاکہ شہری اپنے حقوق، متعلقہ طریقۂ کاراوردستیاب قانونی معاونت سے بروقت استفادہ حاصل کرسکیں۔

ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے فیکٹ فائنڈنگ، دستاویزات کی تیاری پردیا زور

ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے شہری اورآئینی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق معاملات میں اے پی سی آرکے طریقۂ کار، حکمتِ عملی اورمداخلت کے عمل پرتفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے ایس آئی آرکے عمل کوملک کے وسیع ترآئینی اورجمہوری تناظرمیں دیکھنے کی ضرورت پرزوردیتے ہوئے کہا کہ اس کے عام شہریوں پرمرتب ہونے والے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے فیکٹ فائنڈنگ، دستاویزات کی تیاری، قانونی معاونت، وکالت اورضرورت پڑنے پرقانونی فورمزسے رجوع کرنے کے طریقۂ کارکی وضاحت کی۔ ایڈووکیٹ لارا جیسنی نے واضح کیا کہ ہرانفرادی معاملے کی مناسب دستاویزبندی اورمتعلقہ حقائق وریکارڈ کی بنیاد پرتیاری ضروری ہے۔ انہوں نے وکلا، سماجی کارکنوں اورسول سوسائٹی تنظیموں کے درمیان مؤثررابطہ کاری کی اہمیت پربھی زوردیا، تاکہ زمینی سطح پرسامنے آنے والی شکایات کی بروقت نشاندہی، مناسب دستاویزبندی اورضرورت کے مطابق انہیں متعلقہ قانونی فورمزتک پہنچایا جاسکے۔

ایڈووکیٹ رگھوناتھ نے ایس آئی آرکے جواز پراٹھائے سوال

ایڈووکیٹ رگھو ناتھ نے موجودہ حالات میں ایس آئی آرکے جوازاورضرورت پرسوالات اٹھاتے ہوئے ملک کی موجودہ صورتِ حال، جمہوری اداروں اورعدالتی نظام کے کرداراورمؤثریت پر بھی اظہارِخیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کی شفافیت اورسالمیت اپنی جگہ اہم ہے، تاہم کسی بھی انتخابی مہم کے دوران شہریوں کے آئینی اورجمہوری حقوق سے انکار یا ان میں کمی واقع نہیں ہونی چاہئے۔ انہوں نے قانونی برادری پرزوردیا کہ وہ آئینی حقوق اورجمہوری اقدارکے تحفظ کے لئے فعال کردارادا کرے، خصوصاً ایسے حالات میں جب کسی بھی اقدام سے معاشرے کے کمزوریا متاثرہ طبقات کے حقوق پرمنفی اثرپڑنے کا خدشہ ہو۔

شازین صدیقی نے عملی رہنمائی کی

شازین صدیقی نے ایس آئی آرکے دوران شہریوں کوجاری ہونے والے ممکنہ نوٹس، ان کے جوابات، اعتراضات اوراپیلوں کے حوالے سے عملی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے مختلف کیس اسٹڈیزاورعملی مثالوں کے ذریعے وضاحت کی کہ نوٹس موصول ہونے کی صورت میں شہریوں کوکن امورکا جائزہ لینا چاہیے، نوٹس میں درج وجوہات اورقانونی بنیادوں کو کس طرح سمجھنا ضروری ہے، کون سی معاون دستاویزات درکارہوسکتے ہیں اورمناسب جواب کس طریقے سے تیارکیا جانا چاہئے۔ انہوں نے اعتراضات اوراپیلوں کے بعد اختیارکئے جانے والے طریقۂ کارکی بھی وضاحت کی اوراس بات پرزوردیا کہ تمام متعلقہ دستاویزات محفوظ رکھے جائیں، مقررہ قانونی طریقۂ کار پرعمل کیا جائے اورمتعلقہ مقررہ مدت کے اندرضروری کارروائی مکمل کی جائے۔

اے پی سی آرتلنگانہ کی مجوزہ ریاست گیرحکمتِ عملی پیش کی گئی

ورکشاپ کے اختتامی مرحلے میں ڈاکٹرعثمان نے ایس آئی آرکے دوران نوٹس جاری ہونے کے بعد اے پی سی آرتلنگانہ کی مجوزہ ریاست گیرحکمتِ عملی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نوٹس جاری ہونے کے بعد تنظیم ریاست بھرمیں ایک مربوط قانونی اورعوامی معاونتی نظام قائم کرنے کی کوشش کرے گی، تاکہ متاثرہ شہریوں کوضلعی اورنچلی سطح تک بروقت قانونی وعملی مدد فراہم کی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کومحض معلومات، دستاویزات یا قانونی رہنمائی تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے بے یارومددگارنہیں چھوڑا جانا چاہئے۔ اے پی سی آر کا مقصد ریاست بھرمیں ایسا مربوط نیٹ ورک تشکیل دینا ہے جومتاثرہ شہریوں تک ضلعی اورزمینی سطح پرپہنچ سکے اورانہیں دستیاب قانونی ذرائع اورحقوق سے آگاہ کرتے ہوئے ضروری معاونت فراہم کرے۔ ورکشاپ کے اختتام پروکلا، اے پی سی آرکی ضلعی ٹیموں، سماجی کارکنوں اوررضاکاروں نے اس عزم کا اظہارکیا کہ ایس آئی آرکے عمل کے دوران شہریوں کے آئینی حقوق، حقِ رائے دہی اورقانونی چارہ جوئی تک ان کی رسائی کے تحفظ کے لیے پرامن، منظم اورباہمی رابطے کے ساتھ کام کیا جائے گا۔ اے پی سی آرتلنگانہ نے وکلا، سول سوسائٹی تنظیموں، سماجی کارکنوں اورتمام باشعورشہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کوشش کا حصہ بنیں اورہرشہری کے آئینی وجمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردارادا کریں۔

بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read