Bharat Express DD Free Dish

اے پی سی آر کا مساجد کے انہدام پر شدید تشویش کا اظہار، مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کے تحفظ کا پرزور مطالبہ

ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس کی جانب سے ’’ہندوستان میں مساجد کے انہدام اورمذہبی آزادی پرحملوں‘‘ کے موضوع پر ایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کا آئین ہرشہری کو مذہبی آزادی، اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے۔ ایک جمہوری اورکثیرثقافتی ملک کی حیثیت سے تمام مذاہب کے عبادت گاہوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔

نئی دہلی: ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی جانب سے پریس کلب آف انڈیا، نئی دہلی میں ’’ہندوستان میں مساجد کے انہدام اورمذہبی آزادی پرحملوں‘‘ کے موضوع پرایک اہم پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس پریس کانفرنس میں ملک کے مختلف حصوں سے وکلا، ماہرین قانون، دانشوروں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں اورمتاثرہ برادریوں کے افراد نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس کوخطاب کرنے والوں میں سینئروکیل اورسابق مرکزی وزیرسلمان خورشید، انڈین ملمس فارسول رائٹس کے چئرمین اورسابق رکن پارلیمنٹ محمد ادیب، جماعت اسلامی ہند کے نائب صدرملک معتصم خان، سابق چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن ڈاکٹرظفرالاسلام خان، معروف مصنفہ اورسماجی کارکن ڈاکٹر سیدہ حمید، انسانی حقوق کے کارکن جان دیال، اے پی سی آرکے قومی سیکریٹری ندیم خان، ایڈوکیٹ سید سادات علی اورایڈوکیٹ ریاست علی شامل تھے۔

ہمیں ہرممکن قانونی راستہ اختیارکرنا ہوگا: سلمان خورشید

سابق مرکزی وزیراورسینئرایڈوکیٹ سلمان خورشید نے اپنے خطاب میں مذہبی مقامات کے انہدام اوراس کے خلاف دستیاب قانونی راستوں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا: “یہ ایک طویل جدوجہد ہے۔ ہمیں ہرممکن قانونی راستہ اختیارکرنا ہوگا۔ اس جدوجہد میں ہمیں ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے، جو مؤثرطریقے سے کام کرسکتے ہیں، نہ کہ صرف ان کے ساتھ جوہمارے ذاتی مفادات کے قریب ہوں۔” اس دوران پریس کوخطاب کرتے ہوئے محمد ادیب نے کہا: “غیرقانونی انہدامی کارروائیوں میں ملوث پولیس اورانتظامی افسران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے اور انہیں مالی طورپربھی ذمہ دارٹھہرایا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سیکولراپوزیشن کوعوامی مسائل حل کرنے کی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی، ورنہ اس کا مستقبل خطرے میں پڑسکتا ہے۔”

متحد ہوکرمضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوں گے: ملک معتصم خان

جماعت اسلامی ہند کے نائب صدرملک معتصم خان نے تمام متاثرہ طبقات کے ساتھ یکجہتی کا اظہارکرتے ہوئے کہا: “ظالم کوکمزوراورمظلوم کومضبوط ہونا چاہیے۔ ہم کسی کوکمزورنہیں ہونے دیں گے، بلکہ سب مل کرمضبوطی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔” آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت (رجسٹرڈ) کے صدراوردہلی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ظفرالاسلام خان نے متاثرہ کمیونٹیوں اوران کے قانونی نمائندوں پرزوردیا کہ وہ ہرممکن عدالتی راستہ اختیارکریں۔ انہوں نے کہا: “چاہے کامیابی کے امکانات کم ہی کیوں نہ ہوں، عدالتوں کا دروازہ ضرورکھٹکھٹائیں۔ تاریخ میں یہ ریکارڈ ہونا چاہئے کہ ہم نے تمام قانونی راستے اختیارکئے تھے۔ بابری مسجد کے معاملے میں بھی یہ تسلیم کیا گیا کہ مسجد صدیوں پرانی تھی اوراسے مجرمانہ طورپرمنہدم کیا گیا، لیکن فیصلہ پھربھی مختلف آیا۔ ایسے واقعات کوتاریخ کے حاشیے میں نہیں بلکہ اصل متن میں جگہ ملنی چاہئے۔”

مساجد پرحملہ اور انہدامی کارروائی منظم سازش کا حصہ

معروف سماجی کارکن اورنیتی آیوگ کی سابق رکن ڈاکٹرسیدہ حمید نے کہا- “میں بابری مسجد کے انہدام اور2002 کے گجرات فسادات کی گواہ رہی ہوں۔ آج یہ ہمارے وجود کا مسئلہ بن چکا ہے، لیکن اس ملک میں بہت سے ہندو، سکھ اورعیسائی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں اورہم سب مل کراس جدوجہد کوآگے بڑھائیں گے۔” مصنف اورسماجی کارکن جان دیال نے اقلیتی اداروں کے خلاف کارروائیوں پرتشویش ظاہرکرتے ہوئے کہا: “مسلمانوں کوخوفزدہ کرنا ایک سیاسی ہتھیارکے طورپراستعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعات اتفاقی نہیں بلکہ منظم منصوبہ بندی کا حصہ محسوس ہوتے ہیں، جن میں طے کیا جاتا ہے کہ کون، کب اورکیسے کارروائی کرے گا۔” اس موقع پراے پی سی آرکے قومی سکریٹری ندیم خان نے مختلف ریاستوں میں ہونے والی انہدامی کارروائیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ: “جس طرح ماضی میں ہجومی تشدد (لنچنگ) ایک منظم رجحان بن گیا تھا، اسی طرح اب مساجد پرحملوں اورانہدام کی کارروائیوں کا ایک منظم طریقہ سامنے آرہا ہے۔ پہلے ایک فرد کونشانہ بنا کرخوف پیدا کیا جاتا تھا، اب پوری برادری کونفسیاتی اورجذباتی طورپرمتاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔” راجستھان سے تعلق رکھنے والے ایڈوکیٹ سید سادات علی نے بتایا کہ ریاست کے سرحدی اضلاع میں بڑی تعداد میں مساجد کونوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا: “یہ صرف مسجد کا مسئلہ نہیں بلکہ وجود کا مسئلہ ہے۔ صرف باڑمیرضلع میں تقریباً 300 مساجد کونوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کارروائی صرف ایک ہی برادری کے مذہبی مقامات تک کیوں محدود ہے؟”

قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری افسران پر مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ

“اگرکوئی سرکاری افسرقانون کے خلاف کارروائی کرتا ہے تواس کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے اوراسے جواب دہ بنایا جانا چاہیے۔ ہمیں آئین کوبنیاد بنا کراپنی قانونی جدوجہد جاری رکھنی ہوگی۔”پریس کانفرنس میں باڑمیر، جے پور، وارانسی، میرٹھ، سنبھل اورغازی آباد سے آئے ہوئے کمیونٹی نمائندوں نے اپنے علاقوں میں مذہبی مقامات کے انہدام کے واقعات کی تفصیلات پیش کیں۔ انہوں نے خاص طورپرجے پورکے نندپوری علاقے میں واقع نورانی مسجد کا ذکرکیا، جو1981 میں تعمیرکی گئی تھی، 2003 کے سرکاری سروے میں درج تھی اوروقف پورٹل پربھی موجود تھی، مگرمسجد کمیٹی کوپیشگی نوٹس دیئے بغیراسے منہدم کردیا گیا۔ عوامی نمائندوں نے ان کارروائیوں کے سماجی، ثقافتی اورمذہبی اثرات پرتشویش کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ کئی معاملات میں مناسب مشاورت، شفافیت اورقانونی تحفظات کا خیال نہیں رکھا گیا۔

قانون کی حکمرانی، جواب دہی اورمؤثرقانونی چارہ کویقینی بنانے پرزور

مقررین نے اس بات پرزوردیا کہ ہندوستان کا آئین ہرشہری کومذہبی آزادی، اپنے مذہب پرعمل کرنے اوراس کی تبلیغ کرنے کا حق دیتا ہے۔ ایک جمہوری اورکثیرثقافتی ملک کی حیثیت سے تمام مذاہب کے عبادت گاہوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ پریس کانفرنس کے اختتام پرمقررین نے مطالبہ کیا کہ مذہبی مقامات کے انہدام کے معاملات میں قانون کی حکمرانی، جواب دہی اورمؤثر قانونی چارہ جوئی کویقینی بنایا جائے، جبکہ انتظامیہ تمام کارروائیاں غیرجانبدارانہ، شفاف اوربلاامتیازاندازمیں انجام دے۔

 بھارت ایکسپریس اردو-



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read