Bharat Express DD Free Dish

World Malaria Day: مچھروں کے خطرے سے بچنے کا آسان طریقہ، ڈبلیو ایچ او نے بتایا کیا کریں اور کیا نہ کریں

ماہرین کے مطابق مچھر عموماً ٹھہرے ہوئے پانی میں انڈے دیتے ہیں، اس لیے گھر کے آس پاس پانی جمع نہ ہونے دیں۔ گملوں، ٹائروں، بالٹیوں یا کسی بھی کھلی جگہ پر پانی رکنے نہ دیں۔ یہ احتیاط مچھروں کی افزائش روکنے میں سب سے مؤثر قدم ہے۔

نئی دہلی: ایک چھوٹا سا مچھر بھی صحت کے لیے بڑی مشکل پیدا کر سکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ورلڈ ملیریا ڈے کے موقع پر ملیریا کے خاتمے کے عزم کو دہراتے ہوئے بتایا ہے کہ مچھروں کے کاٹنے سے پھیلنے والی بیماری سے بچاؤ کے لیے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

ممکن ہے بیماری سے بچاؤ

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ملیریا ایک ایسی بیماری ہے جسے آسانی سے روکا اور علاج کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔ ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مچھروں کی افزائش کو روکیں اور خود کو محفوظ رکھیں۔

مچھر پنپنے نہ دیں

ماہرین کے مطابق مچھر عموماً ٹھہرے ہوئے پانی میں انڈے دیتے ہیں، اس لیے گھر کے آس پاس پانی جمع نہ ہونے دیں۔ گملوں، ٹائروں، بالٹیوں یا کسی بھی کھلی جگہ پر پانی رکنے نہ دیں۔ یہ احتیاط مچھروں کی افزائش روکنے میں سب سے مؤثر قدم ہے۔

خود کو محفوظ رکھنے کے طریقے

سورج غروب ہونے سے لے کر طلوع ہونے تک پورے بازو والے کپڑے پہنیں تاکہ مچھر کاٹ نہ سکیں۔ سوتے وقت مچھر دانی کا استعمال کریں اور کھڑکیوں و دروازوں پر جالی لگائیں تاکہ مچھر گھر کے اندر داخل نہ ہو سکیں۔

علامات پر فوری توجہ دیں

ڈبلیو ایچ او کے مطابق ملیریا کی ابتدائی علامات میں بخار، جسم میں درد، سردی لگنا، تھکن، سر درد اور متلی شامل ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ شدید علامات میں ذہنی الجھن، سانس لینے میں دشواری، دورے پڑنا اور گہرے پیلے رنگ کا پیشاب شامل ہیں—ایسی صورت میں فوری طور پر اسپتال جانا ضروری ہے۔

بروقت ٹیسٹ اور علاج ضروری

ادارے کا کہنا ہے کہ جلد ٹیسٹ کروا کر فوری علاج شروع کیا جائے، کیونکہ ملیریا کو وقت پر تشخیص کے ذریعے آسانی سے قابو کیا جا سکتا ہے۔ تاخیر کی صورت میں بیماری خطرناک شکل اختیار کر سکتی ہے۔

اجتماعی کوششوں کی ضرورت

ماہرین کے مطابق ملیریا سے نمٹنے کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔ صفائی، مچھر کنٹرول اور عوامی بیداری کے ذریعے اس بیماری پر بڑی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read