مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) کے سینئر لیڈر اجیت پوار ایک المناک طیارہ حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ صبح اپنے آبائی گاؤں بارامتی کے لیے ممبئی سے نجی طیارے کے ذریعے روانہ ہوئے تھے، لیکن لینڈنگ کے دوران پلین کریش کر گیا، جس میں اجیت پوار سمیت پانچ افراد موقع پر ہی جان کی بازی ہار گئے۔ اس حادثے کے بعد مہاراشٹر بھر میں غم و سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ اجیت پوار کے حامی انہیں محبت اور احترام سے ’دادا‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ آج ان کے حامی اس اپنے ’دادا‘ کو یاد کرتے ہوئے جذباتی نظر آ رہے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی سیاسی لیڈر کو ’دادا‘ کیوں کہا جاتا ہے؟ آئیے جانتے ہیں اس کے پیچھے کی وجہ۔
اجیت پوار کو ‘دادا’ کیوں بلاتے تھے؟
مہاراشٹر میں بڑے بھائی کو عام طور پر ’دادا‘ کا خطاب دیا جاتا ہے۔ اجیت پوار کے حامی انہیں اپنا ’دادا‘ کہہ کر پکارتے تھے کیونکہ وہ اپنی سخت محنت، نظم و ضبط، انتظامی امور پر مضبوط گرفت اور فوری فیصلہ سازی کی صلاحیت کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کے حامیوں میں یہ ’دادا‘ کا لقب ان کے عملی رویے، بارامتی کے سیاسی اثر و رسوخ اور مضبوط قیادت کی عکاسی کرتا تھا۔
این سی پی دو دھڑوں میں بٹی
سال 2023 مہاراشٹر کی سیاست میں ایک اہم موڑ لایا، جب اجیت پوار نے بغاوت کرتے ہوئے نیشنل کانگریس پارٹی (این سی پی) کو دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا۔ اس سیاسی ٹوٹ پھوٹ کے بعد پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی۔ ایک دھڑا شرد پوار کی قیادت میں رہا، جسے بعد میں این سی پی (ایس پی) کے نام سے جانا گیا، جبکہ دوسرا دھڑا اجیت پوار کے قیادت میں سامنے آیا، جسے الیکشن کمیشن سے این سی پی کا سرکاری نام اور نشان ملا۔
این سی پی (ایس پی) سے الگ ہونے کے بعد اجیت پوار نے اپنے حامی ایم ایل ایز کو متحد کیا اور مہاراشٹر کی حکومتی اتحاد مہا یوتی میں شمولیت اختیار کی۔ اس کے نتیجے میں وہ ایک بار پھر طاقت کے مرکز میں مضبوط طور پر واپس آئے اور ریاستی حکومت میں نائب وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا۔ اجیت پوار کا یہ سیاسی قدم نہ صرف پارٹی کے اندر سب سے بڑی تقسیم سمجھا گیا، بلکہ مہاراشٹر کی سیاست کی سمت بدلنے والا فیصلہ بھی ثابت ہوا۔ اجیت پوار کی زندگی، قیادت اور ’دادا‘ کے لقب کے پیچھے کی کہانی آج بھی ان کے حامیوں اور مہاراشٹر کی عوام کے دلوں میں زندہ ہے، جو انہیں یاد کر کے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

