احمد آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات کے درمیان بدھ کے روز بھارتی شیئر بازار میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور اہم انڈیکس گراوٹ کے ساتھ بند ہوئے، تاہم گیس سیکٹر کی بعض کمپنیوں کے شیئرز میں نمایاں تیزی رہی۔ خاص طور پر اڈانی ٹوٹل گیس کے شیئرز میں تقریباً 20 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ اپر سرکٹ تک پہنچ گئے۔ کمپنی کے حصص نیشنل اسٹاک ایکسچینج پر 566.90 روپے پر بند ہوئے۔ کمپنی کے حصص میں یہ تیزی اس اعلان کے بعد دیکھی گئی جب حکومت نے ایک حالیہ حکم کے تحت گھریلو پائپڈ نیچرل گیس (PNG) اور گاڑیوں میں استعمال ہونے والی کمپریسڈ نیچرل گیس (CNG) کی سپلائی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے بعد سرمایہ کاروں میں اعتماد بڑھا اور کمپنی کے شیئرز میں خریداری کا رجحان تیز ہوگیا۔
دیگر گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی اضافہ
اس دوران کمپنی کے حصص میں غیر معمولی ٹریڈنگ بھی دیکھنے میں آئی۔ نیشنل اسٹاک ایکسچینج اور بمبئی اسٹاک ایکسچینج پر مجموعی طور پر 1.64 کروڑ سے زیادہ شیئرز کا کاروبار ہوا، جو معمول کے مقابلے میں تقریباً 20 گنا زیادہ تھا۔ اڈانی ٹوٹل گیس سٹی گیس ڈسٹری بیوشن کے شعبے میں کام کرتی ہے اور گھریلو، تجارتی، صنعتی اور گاڑیوں کے صارفین کو قدرتی گیس فراہم کرتی ہے۔ بازار میں عمومی گراوٹ کے باوجود دیگر گیس کمپنیوں کے شیئرز میں بھی انٹرا ڈے ٹریڈنگ کے دوران تیزی دیکھی گئی۔ گجرات گیس کا شیئر تقریباً 12 فیصد بڑھ کر 420 روپے تک پہنچ گیا اور آخر میں 3.96 فیصد اضافے کے ساتھ 390 روپے پر بند ہوا۔ اسی طرح پیٹرو نیٹ ایل این جی، گیل (انڈیا)، اندراپرستھ گیس لمیٹڈ اور مہانگر گیس کے شیئرز بھی تقریباً 2 فیصد تک بڑھ کر بند ہوئے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا اثر
کمپنی نے ایک ضابطہ جاتی فائلنگ میں بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باعث اس کے بعض گیس سپلائرز نے سپلائی کم کر دی ہے۔ اس صورتحال کے سبب کمپنی کو کچھ صنعتی صارفین کو گیس فراہم کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں، تاہم کمپنی نے حکومت کے فوری فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ گھریلو PNG اور CNG صارفین کو ترجیح دینے کا اقدام اہم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



