وارانسی: ملک کے قدیم اور موقر ادارے جوتش وگیان سمیتی کے زیر اہتمام وارانسی میں منعقدہ قومی جوتش کانفرنس میں آچاریہ پون ترپاٹھی کو خصوصی طور پر اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ دو روزہ کانفرنس آر کے گرینڈ ہوٹل سگرا وارانسی میں منعقد ہوا۔ افتتاحی دن پر سنپورنانند سنسکرت یونیورسٹی وارانسی کے وائس چانسلر بہاری لال شرما، سمیتی کے صدر پروفیسر ناگندر پانڈے، پروفیسر رام چندر پانڈے، شری کامیشور اُپادھیائے، پروفیسر ونے پانڈے، نائب صدر پروفیسر چندرما پانڈے، جنرل سکریٹری پروفیسر سدانند شکلا، خزانچی پروفیسر چندرمولی اُپادھیائے اور منتظم راجیو نارائن پانڈے نے آچاریہ پون ترپاٹھی کو اعزاز پیش کیا۔
کون ہیں آچاریہ پون ترپاٹھی؟
آچاریہ ترپاٹھی ’’ایسٹرالوجی ٹوڈے‘‘ جوتش رسالے کے مدیر، ممبئی بی جے پی کے نائب صدر، شری سدھی ونائک گنپتی مندر ٹرسٹ کے خزانچی اور متعدد علمی و مذہبی کتابوں کے مصنف ہیں۔
’’کاشی میں اعزاز پانا زندگی کا سب سے بڑا شرف ہے‘‘
کانفرنس کے دوران ’’جوتش شاستر کے آلوک میں بھارت کا مستقبل اور اس کا عالمی اثر‘‘ کے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے آچاریہ پون ترپاٹھی نے کہا: ’’کاشی میں جو صدیوں سے علم و دھرم کی دھرتی کہلاتی ہے ایسے تعلیم یافتہ افراد کے درمیان اعزاز پانا میرے لیے عظیم سعادت ہے۔ کاشی کی پہچان علم، ویدک روایات، سناتن ثقافت اور جوتش کی جنم بھومی کے طور پر رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جوتش ایک قدیم ویدک اور خالص سائنسی علم ہے جس کی تعلیم نالندہ اور تکشیلا جیسی قدیم یونیورسٹیوں میں دی جاتی تھی۔
’’یوگ کی طرح جوتش بھی دنیا بھر میں مقبول ہوگا‘‘
آچاریہ تریپاٹھی نے کہا کہ جوتش نے ہمیشہ دنیا کو سمت دینے کا کام کیا ہے۔ ’’دنیا کے بڑے کام، مہمات اور فیصلے ہمیشہ جوتش کے مطابق طے شدہ شُبھ مہورت میں انجام دیے جاتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح یوگ کو آج پوری دنیا نے قبول کیا ہے ایک دن جوتش بھی اسی طرح عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے گا اور جوتش وگیان کا ڈنکا پوری دنیا میں بجے گا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
