نئی دہلی :جھارکھنڈ میں طلبہ کے احتجاج کے درمیان ریاستی حکومت نے بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اب تک کا بڑا ایکشن لیا ہے۔ حکومت نے منگل 18 اگست کی رات 44 بھرتی امتحانات کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں دیر رات 8 الگ الگ نوٹیفکیشن جاری کیے گئے۔ حکومت کے فیصلے کے بعد ان امتحانات کے ذریعے منتخب کیے گئے 2628 افسران اور ملازمین کی تقرری بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ ان میں کچھ امیدوار مختلف سرکاری محکموں میں ملازمت کر رہے تھے، جبکہ بعض کی تقرری کے احکامات جاری کیے جاچکے تھے۔حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ منسوخ کیے گئے امتحانات میں وہ بھرتی امتحانات بھی شامل ہیں، جو سال 2014 سے جھارکھنڈ پبلک سروس کمیشن (JPSC) اور آؤٹ سورس ایجنسی ٹی ایس آر ڈیٹا پروسیسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ (TDPL) کے ذریعے منعقد کیے گئے تھے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ امتحانات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں کے پیش نظر یہ قدم اٹھایا گیا ہے۔
فوری سماعت کے لیے خصوصی عدالتیں بنانے کی تیاری
حکومت نے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں سے متعلق معاملات کی تیز رفتار سماعت کے لیے ہائی کورٹ سے خصوصی عدالتیں تشکیل دینے کی درخواست کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ JPSC اور جھارکھنڈ اسٹاف سلیکشن کمیشن (JSSC) میں داخلی نگرانی اور احتساب کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اندرونی ویجیلنس سیل قائم کیا جائے گا۔حکومت نے JPSC اور JSSC میں اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی ہے۔ بھارتی انتظامی سروس کے سینئر افسر امیتابھ کوشل کی سربراہی میں قائم کمیٹی کو دو ماہ کے اندر اپنی رپورٹ حکومت کو سونپنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بھرتی کے عمل میں شفافیت لانا اور مستقبل میں بے ضابطگیوں کو روکنا ہے۔
JSSC-CGL بھی منسوخ
جھارکھنڈ حکومت نے پیر کو کابینہ اجلاس کے بعد احتجاج کرنے والے طلبہ کے اہم مطالبات میں سے ایک کو تسلیم کرتے ہوئے JSSC-CGL امتحان منسوخ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی آؤٹ سورس ایجنسی TDPL کے ذریعے منعقد کیے گئے تمام امتحانات اور اس کی جانب سے جاری کیے گئے نتائج بھی منسوخ کردیئے گئے۔
رگھوبر داس کا حکومت پر حملہ
بی جے پی رہنما رگھوبر داس نے JSSC-CGL امتحان منسوخ کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم انہوں نے ریاستی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی اہم مانگ، یعنی مبینہ بے ضابطگیوں کی CBI تحقیقات، پر حکومت اب بھی خاموش ہے۔ ان کا الزام ہے کہ حکومت اعلانات کے ذریعے طلبہ کو گمراہ کر رہی ہے۔اسی معاملے پر جھارکھنڈ بی جے پی صدر آدتیہ ساہو اور قائد حزب اختلاف بابولال مرانڈی کی قیادت میں بی جے پی کا ایک وفد آج دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرے گا۔ وفد جھارکھنڈ میں جاری طلبہ تحریک، بھرتی امتحانات میں مبینہ دھاندلی اور CBI تحقیقات کے مطالبے سمیت دیگر اہم امور پر مرکزی حکومت کو ریاست کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

