ایئر بس کے اے320 ایئرکرافٹ کے سافٹ ویئر اپڈیٹ نے دنیا بھر میں ہوائی جہاز کے آپریشنز میں ہلچل مچا دی ہے۔ ایئر بس نے تقریباً 6 ہزار سے زائد اے320 طیاروں میں سافٹ ویئر اپڈیٹ کی ہدایت دی، جس کے بعد فضائی ایجنسیوں میں ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔ اس اپڈیٹ اور ہارڈویئر ریپلیسمنٹ کا اثر بھارت میں چلنے والی ایئر لائنز جیسے ایئر انڈیا اور انڈیگو پر بھی پڑنے والا ہے۔ ایئر بس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اے320 طیارے سولر ریڈی ایشن کے اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شمسی شعاعیں ایئرکرافٹ کے ڈیٹا سسٹمز کو متاثر کرتی ہیں، جس کی وجہ سے فلائٹ کے دوران ڈیٹا شیئر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ 30 اکتوبر کو جے بلیو ایئرلائنز کی ایک فلائٹ نیویارک جا رہی تھی کہ سولر ریڈی ایشن کی وجہ سے طیارہ پِچ ڈاؤن ہو گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 15 افراد زخمی ہوئے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ مسئلہ ایلیویٹر اینڈ ایلرون کمپیوٹر (ای ایل اے سی) سے پیدا ہوا، جو کسی بھی فلائٹ کی پِچ کو کنٹرول کرتا ہے۔ سولر ریڈی ایشن ای ایل اے سی میں موجود ڈیٹا کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے غلط ڈیٹا باہر آتا ہے اور فلائٹ کے دوران غیر معمولی رویہ ظاہر ہو سکتا ہے۔ اس خطرے کے پیش نظر یورپی یونین ایوی ایشن سیفٹی ایجنسی (ای اے ایس اے) اور ڈائریکٹر جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے ایمرجنسی ایئر ورتھینیس ڈائریکٹیو جاری کی، جس میں کہا گیا کہ تمام اے320 طیاروں کے سافٹ ویئر کو اگلی پرواز سے قبل اپڈیٹ کیا جائے۔
ایوی ایشن ایکسپرٹ سنت کول نے کہا کہ سولر پلازما سے طیارے میں ساختی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے سافٹ ویئر اپڈیٹ فوری ضروری ہے۔ ایئر بس نے متعلقہ طیاروں کی شناخت کر لی ہے اور واضح کیا ہے کہ جب تک یہ اپڈیٹ مکمل نہیں ہو جاتی، طیارے کو پرواز میں استعمال کرنا خطرناک ہو سکتا ہے۔
ڈی جی سی اے نے بھی اے318، اے319، اے320 اور اے321 طیاروں کے لیے حفاظتی رہنما خطوط جاری کیے ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی طیارہ ضروری حفاظتی معیارات کو پورا کیے بغیر سروس میں نہیں رہے گا۔ بھارت میں اے320 طیارے رکھنے والی تمام ایئر لائنز کو اس ہدایت پر عمل کرنا لازمی ہے، جبکہ انڈیگو اور ایئر انڈیا نے بھی کہا ہے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے پر کام کر رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


