تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع ایک بار پھر جنگ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود پیر کی صبح سویرے تھائی لینڈ نے کمبوڈیا کی سرحد پر فضائی حملہ کر دیا۔ تھائی فوج کے ترجمان میجر جنرل ونتھائی سُواری نے بتایا کہ اُبون رَتچاتھانی صوبے میں ہونے والی جھڑپوں میں ایک فوجی ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔
F-16 کی تعیناتی اور فائرنگ
تھائی فوج نے سرحد پر F-16 لڑاکا طیارے تعینات کر دیے ہیں۔ اتوار کو سی سا کَیت صوبے میں کمبوڈیائی فوج کی فائرنگ کے بعد پیر کی صبح تقریباً پانچ بجے سے گولہ باری شروع ہوئی۔ ہلکے ہتھیاروں اور اِن ڈائریکٹ فائر کے ذریعے مسلسل فائرنگ ہوتی رہی۔ رائل تھائی ایئر فورس نے سوراناری ٹاسک فورس کے ساتھ مل کر جوابی کارروائی کی۔
تھائی لینڈ کا الزام
تھائی فوج کا کہنا ہے کہ کمبوڈیا نے سرحد پر بھاری ہتھیار اور جنگی یونٹس تعینات کر دیے تھے۔ ان سرگرمیوں سے تھائی لینڈ کی قومی سلامتی اور سرحدی علاقوں میں بسنے والے شہریوں کو شدید خطرہ لاحق تھا، اسی وجہ سے فضائی طاقت کا استعمال کیا گیا تاکہ کمبوڈیا کی فوجی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
کمبوڈیا کا دعویٰ
کمبوڈیا کی وزارتِ قومی دفاع نے تھائی فوج پر ’وحشیانہ اور غیر انسانی‘ حملوں کا الزام لگایا ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ حملہ حال ہی میں طے پانے والے دو طرفہ امن معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ کمبوڈیائی فوج نے دعویٰ کیا کہ تھائی فوجیوں نے پریہ وہیئر مندر اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر ٹینکوں سے گولہ باری کی۔
ٹرمپ کی ثالثی ناکام
جولائی 2025 میں سرحدی تنازع پانچ دن کی جنگ میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اس کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم نے جنگ بندی کرائی تھی۔ ٹرمپ نے اکتوبر میں کوالالمپور میں ہونے والی آسیان کانفرنس میں دونوں ممالک کے درمیان معاہدے پر دستخط کرائے تھے۔ لیکن یہ جنگ بندی دو مہینے بھی برقرار نہ رہ سکی اور اب ایک بار پھر سرحد پر لڑائی بھڑک اٹھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



