Bharat Express DD Free Dish

Stir in Europe over Ceuta Migrant Crisis: سیوٹا مہاجر بحران پر یورپ میں سفارتی سرگرمیاں تیز، ہسپانوی وزیراعظم نے یورپی یونین کو لکھا خط

اٹلی، جرمنی، ڈنمارک سمیت 24 یورپی ممالک نے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سیوٹا بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے اور یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

میڈرڈ: اسپین کے شہر سیوٹا میں پیدا ہونے والے مہاجرین کے بحران کے بعد یورپ میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ شدید تنقید کا سامنا کرنے والے اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے یورپی اداروں کو ایک خط ارسال کرتے ہوئے بعض رکن ممالک کے رویے پر ناراضی کا اظہار کیا ہے اور یورپی یونین (ای یو) سے 27 رکن ممالک کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل کی ہے۔ ہسپانوی وزارت داخلہ کے مطابق جمعہ کی شب سیوٹا میں غیر قانونی دراندازی کا کوئی نیا واقعہ پیش نہیں آیا اور تمام داخلی راستوں کو مؤثر انداز میں بند کر دیا گیا ہے۔ اس دوران تاراخال بریک واٹر پر نئی حفاظتی رکاوٹیں نصب کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

67 افراد ہلاک، 48 ہزار سے زائد مہاجرین واپس

ہسپانوی اخبار ایل پائس نے سرکاری اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا کہ اسپین پہنچنے کی کوشش کے دوران اب تک 67 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ مراکش سے آنے والے تقریباً 50 ہزار مہاجرین میں سے 48 ہزار سے زائد کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ ہسپانوی وزیر داخلہ فرنانڈو گرانڈے مارلاسکا نے حکومتی اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے صرف 24 گھنٹوں میں صورتحال کو مکمل طور پر بدل دیا۔‘‘ حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ میلیلا کی سرحد کو مرحلہ وار دوبارہ کھولا جائے گا۔

24 یورپی ممالک کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ

دوسری جانب اٹلی، جرمنی، ڈنمارک سمیت 24 یورپی ممالک نے یورپی یونین کے وزرائے داخلہ کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ سیوٹا بحران سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کی جا سکے اور یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی حفاظت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ ان ممالک نے یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین اور یورپی یونین کونسل کی موجودہ صدر آئرلینڈ کو بھیجے گئے مشترکہ خط میں کہا کہ اجلاس کا مقصد موجودہ صورتحال کا اجتماعی جائزہ لینا اور مربوط یورپی ردعمل پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے۔

بیرونی سرحدوں کے تحفظ پر دیا گیا زور

مشترکہ خط میں کہا گیا کہ اسپین کو یورپی یونین کی بیرونی سرحد پر مؤثر کنٹرول بحال کرنے اور غیر قانونی دراندازی روکنے کے لیے یورپی یونین کے تمام دستیاب وسائل اور نظام کو فوری طور پر بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ اٹلی اور جرمنی کی مشترکہ پہل پر تیار کیے گئے اس خط میں فرونٹیکس (یورپی سرحدی اور ساحلی محافظ ایجنسی) کی معاونت بڑھانے اور مراکش کے ساتھ یورپی تعاون کو مزید مؤثر بنانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔

انسانی اسمگلروں کے خلاف سخت مؤقف

خط پر دستخط کرنے والے ممالک نے واضح کیا کہ انسانی اسمگلروں کو یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی سلامتی کمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق یورپی ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت کو مؤثر طریقے سے روکیں، بیرونی سرحدوں کو مضبوط بنائیں اور ایسی پالیسیوں سے گریز کریں جو غیر قانونی نقل مکانی کے لیے کشش کا باعث بنیں۔ خط میں مزید کہا گیا کہ یورپی یونین غیر قانونی اجتماعی سرحدی عبور، ہجرت کے غلط استعمال یا کسی بھی ہائبرڈ خطرے کو قبول نہیں کر سکتی، جس سے یہ تاثر ملے کہ غیر قانونی طور پر یورپ پہنچ کر قانونی رہائش حاصل کی جا سکتی ہے۔

اسپین۔مراکش تعاون کا خیرمقدم

دستخط کنندہ ممالک نے اسپین اور مراکش کے درمیان جاری تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں غیر قانونی مہاجرین کی فوری واپسی ایک مثبت قدم ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یورپی یونین کے تعاون سے موجودہ بحران پر جلد مکمل قابو پا لیا جائے گا۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز صرف 24 گھنٹوں کے اندر 60 ہزار سے زائد مہاجرین مراکش سے شمالی افریقی علاقے سیوٹا میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہوئے پہنچ گئے تھے۔ یورپی علاقے میں داخلے کی اس افراتفری کے دوران 67 افراد ہلاک ہو گئے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read