عمران خان کی حمایت میں احتجاج کرنے والے کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے منگل کوان کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک بھرمیں احتجاج کیا۔ پارٹی نے کہا کہ پولیس نے 500 سے زیادہ احتجاج کرنے والے کارکنوں اورحامیوں کوگرفتارکرلیا ہے۔ فاشسٹ حکومت کے خلاف سڑکوں پرنکلنے والے زیادہ ترکارکنان کولاہورسے گرفتارکرلیا گیا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ عمران خان کودوسال قبل کرپشن کیس میں عدالت نے سزا سنائی تھی، جس کے بعد انہیں لاہورمیں ان کی رہائش گاہ سے گرفتارکیا گیا۔ وہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بند ہیں۔
عمران خان کی اپیل پر کیا گیا تھا احتجاج
عمران خان کی پارٹی نے دعویٰ کیا کہ جیل میں بند رہنما عمران خان کے حامی بڑی تعداد میں باہرآرہے ہیں اوراس احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں۔ پارٹی کے سینئرلیڈرزلفی بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ 5 اگست کوسابق وزیراعظم عمران خان کی قید کے 2 سال مکمل ہوچکے ہیں۔ ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق سلب کرلئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنی قانونی ٹیم یا اہل خانہ سے زیادہ دیرتک ملنے کی اجازت نہیں ہے۔ زلفی بخاری نے کہا کہ بعض اوقات چند لوگوں کے علاوہ ان کی سیاسی قیادت تک رسائی نہیں ہوتی۔
صرف پنجاب سے 500 سے زائد افراد گرفتار
زلفی بخاری نے کہا کہ موجودہ حکومت نے جلسوں پرپابندیاں عائد کردی ہیں۔ اہم شاہراہوں کوبلاک کردیا گیا ہے، پارٹی کے جھنڈے والی گاڑیوں کی توڑ پھوڑکی گئی ہے اور پارٹی کے سرگرم رہنماؤں اورکارکنوں کے گھروں پرچھاپہ ماری کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف پنجاب میں اب تک پی ٹی آئی کے 500 سے زائد لیڈران اورکارکنوں کوگرفتارکیا جا چکا ہے۔ گرفتارکارکنوں میں اراکین پارلیمنٹ بھی شامل ہیں۔ بخاری نے کہا کہ پاکستان سے جمہوریت غائب ہوچکی ہے۔ یہاں نہ قانون کی حکمرانی ہے اورنہ ہی انسانوں کوکوئی حقوق حاصل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اپنے پاکستانیوں کے ساتھ ایسا ظالمانہ رویہ شرمناک ہے۔ بخاری نے کہا کہ مظاہرین دن کے آخرتک پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اقتدارمیں ہونے کے باوجود حکومت کمزور نظر آرہی ہے۔
دفعہ 144 کے تحت گرفتار
پنجاب میں پولیس نے دفعہ 144 نافذ کردی تھی۔ اس کے تحت کسی بھی مقام پریا اس سے زیادہ لوگ جمع نہیں ہوسکتے تھے۔ اس دفعہ کی خلاف ورزی پر پولیس نے کارکنوں کوگرفتارکرلیا۔ پی ٹی آئی کے جلسوں کی میڈیا کوریج پرپابندی عائد کردی گئی ہے، لیکن ان ریلیوں کی ویڈیوزسوشل میڈیا پروائرل ہورہی ہیں، جس میں پولیس پارٹی کارکنوں کے خلاف کارروائی کرتی ہوئی نظرآ رہی ہے۔ ایک ویڈیومیں پولیس کوایک بزرگ حامی کوگھسیٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ لوگوں نے پولیس کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



