پاکستان کی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ عمران خان کو بہتر طبی علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں داخل کرایا جائے۔ سپریم کورٹ نے عمران خان کی صحت، زندگی کے حق اور طبی سہولیات تک رسائی کو آئینی ضمانت سے جوڑتے ہوئے حکومت کو ان کے بہتر علاج کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا تھا کہ عمران خان کے خاندان کے افراد کے لیے ہفتے میں ایک مرتبہ ان سے ملاقات کا انتظام کیا جائے۔ عمران خان کو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ اسپتال کے آس پاس پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی اور میڈیا کو بھی علاقے سے دور رکھا گیا۔ طبی معائنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
شہباز حکومت نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دی تھی
سپریم کورٹ کے عمران خان کو اسپتال منتقل کرنے کے حکم کے بعد شہباز شریف حکومت نے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی تھی۔ تاہم عدالت کے رجسٹرار دفتر نے نامکمل دستاویزات اور پیپر بک سے متعلق خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے درخواست واپس کر دی۔ اس سے قبل منگل کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے تین سال سے جیل میں قید عمران خان کو 48 گھنٹوں کے اندر نجی اسپتال میں داخل کرانے کا حکم دیا تھا۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے کہا تھا کہ عمران خان کی حالت ٹھیک نہیں ہے اور انہیں بہتر علاج فراہم کیا جانا ان کا حق ہے۔
عمران خان کی رہائی سے شہباز حکومت کو سیاسی خطرہ؟
اس دوران پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے لیڈر جنید اکبر نے الزام عائد کیا کہ حکومت عمران خان سے خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان جیل سے باہر آتے ہیں تو شہباز شریف کی حکومت کے لیے بڑا سیاسی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت اسی وجہ سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل نہ کرنے کے راستے تلاش کر رہی ہے۔
’حکومت کو عمران کی صحت سے زیادہ سیاست کی فکر‘
عمران خان کی صحت اب پاکستان کی سیاست میں بھی بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔ PTI مسلسل الزام لگا رہی ہے کہ حکومت کو عمران خان کی صحت سے زیادہ ان کی سیاسی طاقت اور مقبولیت کی فکر ہے۔ PTI کا دعویٰ ہے کہ شہباز شریف حکومت اور فوجی قیادت نہیں چاہتی کہ عمران خان کسی بھی صورت میں جیل سے باہر آئیں۔ پارٹی کے مطابق عمران خان کی مقبولیت حکومت اور اقتدار کے نظام کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بنی ہوئی ہے۔ اگر عمران خان جیل سے باہر آتے ہیں تو حکومت کو ایک بڑے سیاسی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اسی لیے PTI کا الزام ہے کہ حکومت سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

