ٹی آرایف کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے پر پاکستان کو بوکھلایا ہوا ہے۔
Pakistan Deputy PM Ishaq Dar Supports TRF: پاکستان کے وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے پارلیمنٹ میں دیئے گئے اپنے خطاب میں کھلے عام دہشت گرد تنظیم ’دی ریزسٹنس فرنٹ‘ (ٹی آرایف) کی حمایت کی۔ حال ہی میں اس تنظیم کو امریکہ کے ذریعہ غیرملکی دہشت گرد تنظیم ڈکلیئرکیا گیا ہے۔ یہ تنظیم پاکستان میں سرگرم لشکر طیبہ کی ہی ایک نئی شکل ہے اور اپریل 2025 میں جموں وکشمیر کے پہلگام میں ہوئے خطرناک دہشت گردانہ حملے میں اس کا راست رول پایا گیا تھا، جس میں 26 بے قصورافراد کی جان چلی گئی تھی۔
پاکستان نے یواین ایس سی میں ٹی آرایف
پاکستانی وزیرخارجہ اسحاق ڈارنے پارلیمنٹ میں اعتراف کیا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یواین ایس سی) کے اس بیان سے ٹی آرایف کا نام ہٹوانے کے لئے مداخلت کی تھی، جس میں 22 اپریل کوہوئے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا، ’ہم نے یواین ایس سی کے بیان میں ٹی آرایف کا نام جوڑنے کی مخالفت کی۔ مجھے کئی ممالک سے فون آئے، لیکن ہم نے نہیں مانا اورٹی آرایف کا نام ہٹایا گیا۔‘ انہوں نے مزید کہا، ’ہم ٹی آرایف کو غیرقانونی نہیں مانتے۔ کوئی ثبوت دوکہ انہوں نے حملہ کیا۔ جب تک ٹی آرایف خود ذمہ داری نہیں لیتا، ہم اسے قصوروارنہیں مانیں گے۔‘ حالانکہ ٹی آرایف نے خود عوامی طورپرحملے کی ذمہ داری لی تھی اورامریکہ اورہندوستان کی خفیہ ایجنسیوں نے لشکرطیبہ سے اس کے تعلقات کی تصدیق کی ہے۔
امریکہ نے ٹی آرایف کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا
18 جولائی کو امریکہ نے ٹی آرایف کو فارن ٹیررسسٹ آرگنائزیشن (ایف ٹی او) اور اسپیشلی ڈیسیگرینیٹینڈ ٹیررسٹ (ایس ڈی جی ٹی) قرار دے دیا۔ اس فیصلے کا اعلان امریکہ کے وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کیا۔ انہوں نے کہا، ’’ٹی آرایف، جولشکرطیبہ کی فرنٹ تنظیم ہے، نے 22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کی ذمہ د اری لی تھی۔ یہ حملہ 2008 کے بعد ہندوستان میں سب سے خطرناک شہریوں پرحملہ تھا۔‘‘ ٹی آرایف پر اب امریکی دائرہ اختیارمیں افراد اوراداروں سے مالی امداد حاصل کرنے پرپابندی ہے۔
ہندوستان نے امریکی فیصلے کا استقبال کیا
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


