پاک افغان سرحدی تنازعہ
اسلام آباد: افغانستان اور پاکستان کے درمیان طورخم بارڈر کراسنگ منگل کو نہ کھل سکی۔ دونوں اطراف کے مذہبی، سیاسی اور قبائلی بزرگوں کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور ناکام ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان فورسز کی جانب سے متنازع سرحد کے قریب تعمیراتی کام شروع کرنے کے بعد کشیدگی بڑھ گئی جس کے باعث کراسنگ تقریباً ایک ماہ سے بند تھی۔
حالانکہ، منگل کے روز اس کے کھلنے کی پوری امید تھی کیونکہ دونوں فریقین نے بات چیت کے بعد طورخم تجارتی راستہ ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔
طورخم بارڈر پر صورتحال 4 مارچ کو اس وقت سنگین ہوگئی جب کراسنگ کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات ناکام ہوگئے، جس کے نتیجے میں پاکستانی سیکورٹی فورسز اور افغان طالبان جنگجوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پرتشدد تصادم کے نتیجے میں سرحد کے قریب مسلح افواج کے متعدد اہلکار اور عام شہری مارے گئے۔
اس دوران، سرحد کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں بات چیت کے لیے بدھ کی صبح دونوں اطراف کے سرحدی سیکورٹی حکام کے درمیان ایک میٹنگ ہوئی۔ پاکستانی وفد کے سربراہ سید جواد حسین کاظمی نے بتایا کہ ملاقات کے دوران افغان ٹیم نے کابل میں اعلیٰ حکام سے حتمی منظوری کے لیے وقت مانگا۔
کاظمی نے ملک کے معروف روزنامہ ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا، ’’ہم اب بھی افغانوں کے ساتھ رابطے کے منتظر ہیں، جس کی وجہ سے طورخم بارڈر کو دوبارہ کھولنے میں تاخیر ہوئی ہے۔‘‘
طورخم، افغانستان اور پاکستان کے درمیان سب سے اہم گزرگاہوں میں سے ایک ہے، دونوں ممالک کے درمیان تجارت اور نقل و حرکت کا زیادہ تر حصہ اسی راستے سے ہوتا ہے۔
طویل عرصے سے بند رہنے کے باعث دونوں جانب کے تاجروں کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستانی حکام نے کہا کہ سرحد کے 24 دن بند رہنے کے دوران تمام تجارت بشمول ٹرانزٹ ٹریڈ ٹھپ ہو گئی۔ بندش کی وجہ سے قومی خزانے کو مجموعی طور پر 72 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
طورخم روڈ پر ایک ڈرائیور محمد گل نے معروف افغان میڈیا آؤٹ لیٹ طلوع نیوز کو بتایا، ’’یہاں سینکڑوں مال بردار ٹرک پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ سامان پہلے ہی خراب ہو چکا ہے، جس سے تاجروں کو مالی نقصان ہو رہا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو اس مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

