نیپال حکومت نے مالی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر ملک میں ٹیلی گرام ایپ پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نیپال ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (NTA) نے جمعہ کو تمام انٹرنیٹ اور موبائل سروس فراہم کنندگان کو حکم دیا کہ وہ اس ایپ کو فوری طور پر بلاک کر دیں۔
سائبر جرائم میں استعمال کی اطلاعات
یہ فیصلہ نیپال پولیس کے سائبر بیورو کی سفارش پر لیا گیا، جن کے مطابق ٹیلی گرام کو فرضی نوکریوں، کرپٹو فراڈ، اور دیگر آن لائن دھوکہ دہی میں استعمال کیا جا رہا تھا۔ بیورو نے خبردار کیا کہ اس ایپ کے ذریعے مجرم عناصر ملک کے شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
سرکاری بیانات اور تحفظات
NTA کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹیلی گرام ایپ کے استعمال سے دھوکہ دہی کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں جعلی ملازمت کی پیشکشیں اور مالیاتی فریب شامل ہیں۔ ایسے میں عوامی مفاد میں فوری پابندی ضروری تھی۔ ذرائع کے مطابق، اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم دفتر، وزارت داخلہ، اور وزارت آئی ٹی نے کئی میٹنگیں کیں، جس کے بعد وزارت مواصلات نے باضابطہ کارروائی کی ہدایت دی۔
تحقیقات میں رکاوٹ اور عدم تعاون
این ٹی اے کے مطابق، ٹیلی گرام کے نمائندوں سے رابطہ کرنے میں ناکامی، اور مقامی نمائندگی کے فقدان نے تحقیقات کو مشکل بنا دیا۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ٹیلی گرام قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تعاون نہیں کرتا، جو نگرانی کے عمل میں رکاوٹ ہے۔
عالمی تناظر میں ٹیلی گرام کا تنازع
قابل ذکر ہے کہ ٹیلی گرام کو پہلے بھی چین اور دیگر ممالک میں قومی سلامتی کے خطرات کے سبب بند کیا جا چکا ہے۔ یہ معاملہ اس وقت زیادہ شدت اختیار کر گیا تھا جب اگست 2024 میں شریک بانی پاویل ڈوروف کو فرانس کے لی بورگے ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا۔ ان پر بچوں سے متعلق نازیبا مواد پھیلانے اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے سنگین الزامات عائد ہوئے تھے۔
احتجاج اور قومی مفاد میں فیصلہ
ڈوروف کی گرفتاری کے بعد دنیا بھر میں آزادی اظہار کے علمبرداروں اور صارفین کی جانب سے احتجاج کیا گیا، لیکن نیپال نے اپنی قومی سلامتی اور عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے ٹیلی گرام پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ حکام کے مطابق، پابندی عارضی نہیں بلکہ مستقل نوعیت کی ہو سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


