اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی۔
نئی دہلی: اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے متعلق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایک بیان کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔
جی-7 اجلاس سے متعلق ٹرمپ کا دعویٰ
ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جی-7 سربراہ اجلاس کے دوران اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر کھنچوانے کے لیے گڑگڑا کر گزارش کی تھی۔ اس بیان کے بعد میلونی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ نہ وہ اور نہ ہی اٹلی کبھی کسی کے آگے گڑگڑاتے ہیں۔ بتاتے چلیں کہ امریکی صدر نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران کہا تھا کہ حالیہ جی-7 اجلاس میں جارجیا میلونی نے ان کے ساتھ تصویر بنوانے کے لیے گڑگڑا کر گزارش کی تھی۔
میلونی کا سوشل میڈیا پر جواب
اس بیان پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جارجیا میلونی نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پیغام میں کہا، ’’میں اور اٹلی کبھی کسی کے سامنے گڑگڑاتے نہیں ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی باتیں مکمل طور پر خیالی ہیں اور یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ امریکہ کے صدر اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ ایسا رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں۔ ان کے مطابق مغربی ممالک کے مخالفین کے ساتھ بھی اتنی ہی سختی برتی جانی چاہیے۔
اتحادی ملک کے لیڈر کی توہین کا کوئی حق نہیں
میلونی نے کہا کہ سیاسی نظریات کچھ بھی ہوں، امریکہ کے صدر کو کسی قریبی یورپی اتحادی ملک کے جمہوری طور پر منتخب لیڈر کا عوامی سطح پر مذاق اڑانے یا ان کی توہین کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔
اکثر خبروں میں رہتے ہیں ٹرمپ کے بیانات
موقع کوئی بھی ہو، ڈونلڈ ٹرمپ اپنے بیانات اور خود ستائی کے انداز کی وجہ سے خبروں میں رہتے ہیں۔ جی-7 سربراہ اجلاس میں بھی وہ اپنے مختلف تبصروں کے باعث توجہ کا مرکز بنے رہے، چاہے وہ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف ہو یا پھر خود کو ’باس‘ قرار دینا۔
’’میں باس ہوں‘‘ والے جملے پر قہقہے
فرانس کے شہر ایویان میں منعقدہ باون ویں جی-7 سربراہ اجلاس کے ورکنگ سیشن کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ تاخیر سے پہنچے تھے۔ کانفرنس روم میں داخل ہونے کے بعد وہ کچھ دیر رکے اور کہا، ’’میں باس ہوں‘‘۔ ان کے اس انداز پر وہاں موجود لیڈران ہنس پڑے اور فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون نے مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


