Bharat Express DD Free Dish

Iran’s opposition protesting: ایران میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف احتجاجی لہر تیز، تہران اور مشہد سمیت مختلف شہروں میں مظاہرے

ادھرامریکہ ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کے جوہری عزائم پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔

نئی دہلی: ایران میں ایک بار پھر احتجاج کی چنگاریاں بھڑک اٹھی ہیں۔ بنگلہ دیشی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملک کی متعدد یونیورسٹیوں کے طلبہ نے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے ہیں۔ گزشتہ ماہ سکیورٹی کارروائی میں ہلاکتوں کے بعد یہ سب سے بڑا احتجاج بتایا جا رہا ہے۔  بنگلہ دیشی خبر رساں ادارے یو این بی کے مطابق بی بی سی نے ہفتہ کے روز تہران میں واقع شریف یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی کے کیمپس کی ویڈیو کی تصدیق کی ہے، جس میں مظاہرین کو احتجاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بعد میں مظاہرین اور حکومت کے حامیوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔ تہران کی شہید بہشتی یونیورسٹی میں دھرنا دیا گیا، جبکہ شمال مشرقی شہر مشہد میں ریلی نکالی گئی۔ طلبہ نے جنوری میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والوں کو یاد کیا۔ اسی طرح امیر کبیر یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں بھی احتجاج کی تصدیق ہوئی ہے۔ مشہد میں طلبہ نے مبینہ طور پر ’’آزادی، آزادی‘‘ اور ’’طلبہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔

خامنہ ای کے خلاف نعرے، ٹکراؤ کی خبر

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں سیکڑوں طلبہ ایرانی پرچم لہراتے اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے خلاف نعرے لگاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قریب ہی حکومت کے حامی بھی موجود تھے اور دونوں گروہوں کے درمیان تصادم ہوا۔ تاحال کسی گرفتاری کی باضابطہ اطلاع نہیں ملی ہے، تاہم اتوار کو مزید ریلیوں کی کال دی گئی ہے۔

امریکہ کا سخت مؤقف اور سفارتی سرگرمیاں

ادھرامریکہ ایران کے قریب اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کر رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی بار عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ محدود فوجی کارروائی پر غور کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپی اتحادی ایران کے جوہری عزائم پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ منگل کو امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان سوئٹزرلینڈ میں ملاقات بھی ہوئی، جس میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق پیش رفت پر بات چیت کی گئی۔ تاہم صدر ٹرمپ نے بعد میں خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں واضح ہو جائے گا کہ معاہدہ ہوگا یا فوجی کارروائی کی نوبت آئے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read