Bharat Express DD Free Dish

Iran recorded 116 protests across 22 provinces: ملک گیر انٹرنیٹ بندشوں کے باوجود ایران میں ایک ہی دن میں 22 صوبوں میں 116 احتجاج ریکارڈ: رپورٹ

رپورٹ کے مطابق ان میں سے 20 احتجاج بڑے پیمانے کے تھے، جن میں ایک ہزار سے زائد افراد کی شرکت رہی۔ ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ انٹرنیٹ بندش کے باعث احتجاجی سرگرمیوں کی مکمل تصویر سامنے نہیں آسکی، کیونکہ مظاہرین ویڈیوز شائع اور شیئر کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض مظاہرین نے مبینہ طور پر اسٹارلنک کے ذریعے غیر ملکی میڈیا تک احتجاج کی اطلاعات پہنچائیں۔

واشنگٹن ڈی سی: پالیسی ریسرچ ادارے انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار نے ہفتہ کو کہا کہ 8 جنوری کو مقامی وقت کے مطابق شام 3:30 بجے سے ایران کے 22 صوبوں میں مجموعی طور پر 116 احتجاج ریکارڈ کیے گئے۔

بڑے پیمانے کے احتجاج

رپورٹ کے مطابق ان میں سے 20 احتجاج بڑے پیمانے کے تھے، جن میں ایک ہزار سے زائد افراد کی شرکت رہی۔ ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر بتایا کہ انٹرنیٹ بندش کے باعث احتجاجی سرگرمیوں کی مکمل تصویر سامنے نہیں آسکی، کیونکہ مظاہرین ویڈیوز شائع اور شیئر کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ بعض مظاہرین نے مبینہ طور پر اسٹارلنک کے ذریعے غیر ملکی میڈیا تک احتجاج کی اطلاعات پہنچائیں۔

انٹرنیٹ بندش کے باوجود مظاہرے جاری

ادارے کے مطابق ایرانی حکومت نے احتجاج کو کمزور کرنے کے لیے ملک گیر انٹرنیٹ بندش برقرار رکھی، تاہم اس کے باوجود ملک بھر میں احتجاجی سرگرمیاں جاری رہیں۔ تھنک ٹینک نے کہا کہ انٹرنیٹ بندش کا مقصد احتجاج کی ہم آہنگی میں رکاوٹ ڈالنا اور کریک ڈاؤن کے پیمانے کو چھپانا ہوسکتا ہے۔

سکیورٹی فورسز پر دباؤ

تفصیلات میں بتایا گیا کہ احتجاج اس حد تک پھیل چکا ہے کہ وہ ایرانی سکیورٹی فورسز کی انہیں دبانے کی صلاحیت کو چیلنج کر رہا ہے۔ 8 اور 9 جنوری کو مختلف شہروں میں مظاہرین نے سرکاری اداروں کو نقصان پہنچایا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت ممکنہ طور پر احتجاج دبانے کے لیے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر زیادہ انحصار کرے گی، کیونکہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسائل کی کمی کا سامنا ہے۔

نیٹ بلاکس کی رپورٹ

معروف ایرانی صحافی اور کارکن مسیح علی نژاد نے اسٹارلنک کے ذریعے موصول ہونے والی ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں 90 ملین افراد کے لیے انٹرنیٹ بند کیے ہوئے 24 گھنٹے سے زائد ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ ایران کی تحریک کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسٹارلنک کی دستیابی نے جمہوریت کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انٹرنیٹ مانیٹر نیٹ بلاکس نے بتایا کہ ایران میں ملک گیر انٹرنیٹ بلیک آؤٹ 36 گھنٹے سے برقرار ہے، جس کے باعث شہریوں کی اپنے دوستوں اور اہل خانہ کی خیریت جانچنے کی صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے۔

مبینہ کریک ڈاؤن کی شدید مذمت

دریں اثنا، عالمی رہنماؤں نے مظاہرین کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں کی مذمت کی ہے۔ ایک مشترکہ بیان میں آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی یونین کے وزرائے خارجہ نے ایرانی عوام کی جرات کو سراہتے ہوئے حکومت کے مبینہ کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read