ہندوستانی ار اکین پارلیمنٹ کا وفد ماسکو پہنچ گیا۔
پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے دہشت گردوں کو زبردست جواب دیا تھا۔ اس دوران پاکستان نے دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہوئے ہندوستان پرکئی حملے کئے، لیکن ہندوستان کی فوج نے ان حملوں کو ہوا میں ہی ناکام کردیا۔ ہندوستانی فوج نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سندور چلایا ہے، جو ابھی بھی جاری ہے۔ وہیں اس آپریشن کے بعد دہشت گردی کے بارے میں پوری دنیا میں ہندوستان کا نمائندہ وفد بھیجا گیا ہے۔ اسی ضمن میں ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کنی موجھی کی قیادت میں بھی ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ کا ایک وفد روس پہنچا ہے۔ حالانکہ یہاں روس پہنچنے کے بعد طیارہ کو تقریباً 45 منٹ تک ہوا میں ہی چکرلگانا پڑا۔
روس پہنچا ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ کا وفد
دراصل، ڈی ایم کے لیڈر کنی موجھی کی قیادت میں ہندوستانی اراکین پارلیمنٹ کا نمائندہ وفد آج ماسکو پہنچا۔ اس دوران اراکین پارلیمنٹ کے نمائندہ وفد کو لے جا رہے طیارے کو ڈرون حملے کے سبب کچھ دیرتک آسمان میں چکرلگانا پڑا۔ حالانکہ بعد میں طیارہ محفوظ اترگیا۔ واضح رہے کہ ڈی ایم کے رکن پارلیمنٹ کنی موجھی، مرکز کے ذریعہ نامزد کئے گئے اراکین پارلیمنٹ کے نمائندہ وفد کی قیادت کررہی تھیں، جنہیں آپریشن سندور کے بعد بین الاقوامی رابطہ مہم کے تحت بھیجا گیا تھا۔ آپریشن سندور پاکستان اور پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی اوکے) میں دہشت گردانہ ٹھکانوں پر مبنی ایک فوجی مہم تھی۔
طیارہ کو ہوا میں لگانا پڑا چکر
لوک سبھا رکن پارلیمنٹ کنی موجھی کے قریبی ذرائع کے مطابق، طیارہ کو بیچ ہوا میں چکرلگانا پڑا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، “طیارہ نے ہوا میں چکرلگایا اوربعد میں اترا۔ اس میں 45 منٹ کی دیری ہوئی۔ وہ (کنی موجھی) محفوظ اترگئیں۔” واضح رہے کہ پہلگام حملے کے ایک ماہ بعد پاکستان کی پشت پناہی میں فروغ پانے والی دہشت گردی پربین الاقوامی برادری کوحساس بنانے کے لئے پانچ ممالک کا دورہ کے پہلے مرحلے میں کثیرالجہتی وفد جمعرات کی شب ماسکوپہنچا۔ آپ کوبتادیں کہ پہلگام حملے میں 26 لوگ مارے گئے تھے۔ کنی موجھی اوران کی ٹیم کے اراکین کا ڈوموڈیڈووانٹرنیشنل ایئرپورٹ پرہندوستانی سفیرونے کماراوردیگرحکام نے استقبال کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



