آسٹریلین سینیٹ کی پہلی باحجاب رکن فاطمہ پیمان
آسٹریلیا: ان دنوں دنیا بھر میں حجاب یا برقعہ پہننے والی مسلم لڑکیوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور قابل اعتراض رویے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ آسٹریلیا سے حیران کر دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک مسلم خاتون سینیٹر کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے نے نہ صرف آسٹریلیا بلکہ یورپ میں رہنے والی مسلم خواتین کے تحفظ اور عزت کے بارے میں کئی نئے سوالات کو جنم دیا ہے۔
آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک مسلم خاتون سینیٹر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے پارلیمنٹ سے وابستہ مانیٹرنگ باڈی میں شکایت درج کرائی ہے۔ خاتون سینیٹر کا کہنا ہے کہ ان کے ایک مرد ساتھی نے مبینہ طور پر انہیں شراب پینے اور ’ٹیبل پر ڈانس‘ کرنے کے لیے کہا۔ 30 سالہ سینیٹر فاطمہ پیمان نے اے بی سی چینل سے بات کرتے ہوئے بتایا، ’’میرے ساتھ میں کام کرنے والے شخص نے مجھ سے کہا-چلو تمہیں تھوڑی شراب پلاتے ہیں اور ٹیبل پر ڈانس کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔‘‘
افغانستان میں پیدا ہوئیں فاطمہ پیمان
مقامی میڈیا کے مطابق فاطمہ پیمان افغانستان میں پیدا ہوئیں اور وہ آسٹریلیائی پارلیمنٹ میں پہلی حجاب پہننے والی خاتون سینیٹر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے ساتھی کو یہ صاف صاف کہہ دیا کہ وہ شراب نہیں پیتی تو اس کے باوجود اس شخص نے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مبینہ واقعہ کب پیش آیا۔ فاطمہ نے اس رویے کے خلاف باقاعدہ شکایت درج کرائی ہے۔
پہلے بھی سامنے آیا تھا اس طرح کا معاملہ
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ آسٹریلیائی پارلیمنٹ میں کسی خاتون کے ساتھ کچھ غلط ہوا ہو۔ سال 2021 میں برٹنی ہگنز نامی خاتون ملازمہ نے بتایا تھا کہ پارلیمنٹ میں ہی ایک کولیگ نے ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ پارلیمنٹ میں شراب پینا، خواتین کے ساتھ بدتمیزی اور بد سلوکی کرنا عام بات ہے۔ اس معاملے سے پارلیمنٹ کے ماحول کو لے کر کئی تشویشناک باتیں سامنے آئیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


