اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں امریکہ اور کیوبا کے درمیان تیز سفارتی کشیدگی کے بعد امریکی پابندیوں کے معاملے پر اہم ووٹنگ ہوئی۔ بدھ کو پیش کی گئی اس قرارداد میں کیوبا پر کئی دہائیوں سے عائد امریکی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ امریکہ کے دباؤ اور مبینہ دھمکیوں کے باوجود بھارت سمیت دنیا کے 130 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
اسرائیل سمیت صرف 17 ممالک نے مخالفت کی
اقوام متحدہ میں ہونے والی اس اہم ووٹنگ کے دوران 130 ممالک نے کیوبا کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت کی۔ اس کے برعکس امریکہ اور اس کے قریبی اتحادی اسرائیل سمیت 17 ممالک نے قرارداد کے خلاف ووٹ دیا، جبکہ جرمنی اور اٹلی سمیت 25 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانب دار رہے۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس مرتبہ قرارداد کی حمایت میں ووٹوں کی تعداد کم ہو کر 130 رہ گئی۔ تاہم، قرارداد کے حق میں بڑی تعداد میں ممالک کی حمایت کو امریکی پابندیوں کے خلاف عالمی سطح پر مخالفت کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
امریکہ پر دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا الزام
ووٹنگ سے قبل اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر امریکہ اور کیوبا کے نمائندوں کے درمیان شدید بحث ہوئی۔ امریکی سفیر مائیک والٹز کی جانب سے کیوبا کی حکومت پر تنقید کے بعد کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پریلا نے امریکہ پر سنگین الزامات عائد کیے۔ کیوبا کا دعویٰ تھا کہ امریکی انتظامیہ اقوام متحدہ کے دیگر رکن ممالک کو قرارداد کے خلاف ووٹ دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ کیوبا کے مطابق، واشنگٹن نے کئی ممالک کو ویزا پابندیوں اور اقتصادی اقدامات کی دھمکیاں بھی دیں، تاکہ کیوبا کو عالمی سطح پر تنہا کیا جا سکے۔
قرارداد علامتی طور پر کیوں اہم ہے؟
ماہرین کے مطابق، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہر سال پیش کی جانے والی یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں ہوتی۔ اس لیے اس کی منظوری امریکہ کو پابندیاں ختم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ان پابندیوں کو ختم کرنے کا اختیار امریکی کانگریس کے پاس ہے۔ اس کے باوجود، 1992 سے مسلسل پیش کی جا رہی اس قرارداد کے حق میں بڑی تعداد میں ممالک کی حمایت کو امریکہ کی یک طرفہ پالیسیوں کے خلاف عالمی مخالفت کا اہم اظہار سمجھا جاتا ہے۔ بھارت کی جانب سے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دینا اس کے سفارتی موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ اس ووٹنگ کے ذریعے بھارت سمیت متعدد ممالک نے کیوبا پر عائد امریکی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں ختم کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

