Bharat Express DD Free Dish

Congo crisis deepens: کانگو کا بحران مزید گہرایا، ’M23‘ جنگجو مشرقی علاقے کے دوسرے بڑے شہر میں ہوئے داخل، وسیع پیمانے پر چھڑ سکتی ہے جنگ

اس ہفتے کے آخر میں ادیس ابابا میں ہونے والے افریقی یونین کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں یہ بحران ایجنڈے میں سب سے اوپر ہوگا۔ کانگو کے صدر کے دفتر نے جمعے کے روز کہا کہ تسیسیکیدی اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے لیکن وہ اپنے وزیر اعظم کو ملک کی نمائندگی کے لیے بھیجیں گے۔

کانگو کا بحران مزید گہرایا

کنشاسا: کانگو کے مشرقی علاقے کے دوسرے بڑے شہر بوکاوو میں ‘M23’ جنگجو داخل ہو گئے ہیں۔ اس سے قبل جمعے کے روز کانگو کی فوج نے کہا تھا کہ M23 جنگجوؤں نے بوکاوو کے شمال میں واقع کاوومو ہوائی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

جنوبی کیوو صوبے کے دارالحکومت بوکاوو پر قبضہ M23 کی طاقت کو بڑھا دے گا اور مشرق میں کنشاسا کی اتھارٹی کو مزید دھچکا لگے گا۔ پچھلے مہینے،M23 نے مشرقی علاقے کے مرکزی شہر گوما پر قبضہ کر لیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کانگو ریور الائنس )جس میں M23 بھی شامل ہے( کے رہنما کارنل نانگا نے کہا، ’’میں تصدیق کرتا ہوں کہ ہم جمعہ کی شام بوکاوو میں داخل ہوئے، اور ہفتہ کے روز، ہم شہر کو صاف کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھیں گے۔‘‘

اس سے پہلے کانگو کی فوج کے ترجمان سلوین اکینگے نے کہا تھا کہ فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کرنے کے بعد واپس چلے گئے ہیں۔ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ واپس کہاں چلے گئے۔ میڈیا رپورٹس میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کانگو اور برونڈی کے فوجیوں کو دن کے وقت بکاوو کے مرکزی فوجی کیمپ سائو سے نکلتے دیکھا گیا۔ کیمپ کے قریب رہنے والے ایک شخص نے کہا، ’’وہ آبادی والے علاقوں میں لڑائی سے بچنے کے لیے پیچھے ہٹ رہے ہیں۔‘‘

اس دوران، کانگو کے صدر فیلکس تسیسیکیدی نے عالمی برادری سے بحران کے خاتمے میں مدد کی درخواست کی۔ انہوں نے میونخ سیکورٹی کانفرنس کو وسیع پیمانے پر جنگ کے خطرے سے خبردار کیا۔

تسیسیکیدی نے تنازعہ میں روانڈا کو اس کے کردار کے لیے جوابدہ ٹھہرانے کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ بین الاقوامی برادری پر منحصر ہے کہ وہ اس لڑائی کو پھیلنے سے روکے۔‘‘

روانڈا نے کانگو، اقوام متحدہ اور مغربی طاقتوں کے ان الزامات کو مسترد کر دیا کہ اس کے ہزاروں فوجی M23 کے ساتھ مل کر لڑ رہے ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ ہوتو کی قیادت والی ملیشیا سے اپنا دفاع کر رہے ہیں، جو اس کے مطابق کانگو کی فوج کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے۔

اس ہفتے کے آخر میں ادیس ابابا میں ہونے والے افریقی یونین کے دو روزہ سربراہی اجلاس میں یہ بحران ایجنڈے میں سب سے اوپر ہوگا۔ کانگو کے صدر کے دفتر نے جمعے کے روز کہا کہ تسیسیکیدی اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے لیکن وہ اپنے وزیر اعظم کو ملک کی نمائندگی کے لیے بھیجیں گے۔

جیسے جیسے مشرق میں لڑائی بڑھ رہی ہے، تسیسیکیدی پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ میونخ میں، انہوں نے سابق صدر جوزف کبیلا پر ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لیے باغیوں اور روانڈا کا ساتھ دینے کا الزام لگایا۔ تسیسیکیدی نے کہا، ’’(تنازعہ کے) حقیقی اسپانسر چھپے ہوئے ہیں۔ اور اس احتجاج کے اصل اسپانسر میرے پیشرو، جوزف کبیلا ہیں۔‘‘

وہیں، کبیلا کی کمیونیکیشن ایڈوائزر باربرا نزیمبی نے کہا، ’’میں ان الزامات کی مکمل تردید کرتی ہوں۔ تسیسیکیدی کی پالیسی حل فراہم کرنے کے بجائے بلی کا بکرا تلاش کرنا ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read