تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی تنازع ایک بار پھر پرتشدد ہو گیا ہے۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گزشتہ دو روز سے شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے، جس میں اب تک 19 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ اس دوران کمبوڈیا نے اقوام متحدہ سے ’فوری اور بغیر شرط کے جنگ بندی‘ کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ تھائی لینڈ نے بھی بات چیت کے اشارے دیے ہیں۔
تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جاری سرحدی جھڑپوں کے پیش نظر بھارت نے اپنے شہریوں کے لیے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے۔ کمبوڈیا کے دارالحکومت پنوم پین میں بھارتی سفارت خانے نے بھارتی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے سرحدی علاقوں کا سفر کرنے سے گریز کریں۔ جمعہ جولائی 2025 کو جاری کردہ ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ جو بھارتی شہری کمبوڈیا یا قریبی علاقوں میں موجود ہیں، وہ تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب نہ جائیں کیونکہ وہاں صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے اور سکیورٹی کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
اگر کسی بھی بھارتی شہری کو ہنگامی حالت میں مدد کی ضرورت ہو، تو وہ بھارتی سفارت خانے کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں:
فون: +855 92881676
ای میل: [email protected]
اب تک کیا کچھ ہوا؟:
کمبوڈیا کی اقوام متحدہ سے اپیل
اقوام متحدہ میں کمبوڈیا کے سفیر چیا کیو نے کہا کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا۔ اُن کا کہنا تھا: “ہم ایک چھوٹا ملک ہیں، ہمارے پاس ایئر فورس نہیں ہے، ہم تھائی لینڈ جیسے بڑے ملک پر حملہ نہیں کر سکتے۔ ہم صرف امن چاہتے ہیں۔”
تھائی لینڈ نے مذاکرات کا اشارہ دیا
تھائی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ان کا ملک ملائیشیا کی مدد سے امن بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اب تک کوئی باضابطہ تجویز نہیں ملی۔
ملائیشیا کی ثالثی کی پیشکش
ASEAN (جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم) کے صدر ملک کی حیثیت سے ملائیشیا نے ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ وزیراعظم انور ابراہیم نے کہا کہ دونوں ممالک جنگ بندی پر متفق ہو چکے ہیں، لیکن اس پر عمل درآمد میں وقت لگے گا۔
سرحد پر شدید فائرنگ
جمعہ 25 جولائی 2025 کی صبح 4 بجے ایک بار پھر تین مقامات پر لڑائی شروع ہوئی۔ کمبوڈین فوج نے بھاری توپخانہ، فیلڈ آرٹلری اور روسی BM-21 راکٹ سسٹم استعمال کیے، جس کے جواب میں تھائی فوج نے بھی بھرپور کارروائی کی۔
جھڑپ کی وجہ کیا تھی؟
بدھ 23 جولائی 2025 کو سرحد کے قریب ایک بارودی سرنگ کے دھماکے میں 5 تھائی فوجی زخمی ہو گئے تھے، جس کے بعد جمعرات سے چھ مقامات پر جھڑپیں شروع ہو گئیں، جن میں دو قدیم مندروں کے علاقے بھی شامل ہیں۔
اب تک کتنے افراد مارے گئے؟
تھائی وزارت صحت کے مطابق اب تک 19 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 14 عام شہری، ایک فوجی اور دیگر زخمی شامل ہیں۔ تقریباً 1.38 لاکھ افراد کو سرحدی علاقوں سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا بیان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے دونوں فریقین سے تحمل برتنے اور مسئلے کا حل مذاکرات سے نکالنے کی اپیل کی ہے۔
کیا یہ صورتحال جنگ میں بدل سکتی ہے؟
تھائی لینڈ کے قائم مقام وزیراعظم نے کہا ہے کہ اگر حالات قابو میں نہ آئے تو یہ باقاعدہ جنگ میں بدل سکتے ہیں، حالانکہ فی الحال جھڑپیں محدود علاقوں تک ہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


