سوچیے، آپ جیب خرچ کے لیے شدید گرمی میں پسینہ بہا رہے ہوں اور اچانک پھاوڑے کی ایک ضرب سے 90 کروڑ روپے کا سونا برآمد ہوجائے۔ فلمی کہانی جیسا لگنے والا یہ حیرت انگیز واقعہ بیلجیم میں حقیقت بن گیا، جہاں 18 سالہ طالب علم کی ایک ہی رات میں قسمت بدل گئی۔بیلجیم میں گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران سیوریج کی کھدائی کرنے والے 18 سالہ طالب علم کوبے کو ایک پرانی شراب فیکٹری کی دیوار کے پیچھے تقریباً 90 کروڑ روپے (90 لاکھ یورو) مالیت کا سونے کا خزانہ ملا۔ اس میں سونے کے سکے، سونے کی چھڑیاں اور ٹکڑے شامل تھے، جنہیں 19ویں صدی میں فیکٹری کے مالک نے دیوار کے اندر چھپا کر سیل کر دیا تھا۔ کوبے نے ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوراً پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد سونا برسلز میں ایک محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ اب اس کے قانونی مالک کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
گڑھا اس کی زندگی کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ بن گیا
قسمت کب اور کیسے بدل جائے، کوئی نہیں جانتا۔ بیلجیم کے سینٹ-گیلس-ڈینڈرمونڈے شہر میں 18 سالہ طالب علم کوبے گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران جیب خرچ کمانے کے لیے ایک تعمیراتی مقام پر مزدوری کر رہا تھا۔ اسے ایک پرانی شراب فیکٹری کی زمین پر سیوریج سسٹم کے لیے گڑھا کھودنے کا کام ملا تھا۔لیکن کسی کو کیا معلوم تھا کہ سیوریج کے لیے کھودا جانے والا یہی گڑھا اس کی زندگی کا سب سے بڑا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوگا۔
دیوار کے پیچھے چھپا تھا بھاری بھرکم خزانہ
کھدائی کے دوران اچانک کوبے کو مٹی کے نیچے کچھ چمکتی ہوئی عجیب چیزیں نظر آئیں۔ ابتدا میں اسے اور اس کے ساتھیوں کو لگا کہ شاید یہ عام ایک یورو کے معمولی سکے ہیں۔ لیکن جب انہوں نے مزید مٹی ہٹائی اور تجسس میں کھدائی جاری رکھی تو ان کے ہوش اڑ گئے۔وہاں اینٹوں سے چن کر سیل کی گئی ایک پرانی تہہ خانے کی دیوار موجود تھی، جس کے پیچھے سونے کا بھاری خزانہ چھپا ہوا تھا۔ اس ذخیرے میں سونے کے نایاب سکے، بھاری ٹکڑے اور چمکتی ہوئی سونے کی چھڑیاں شامل تھیں۔ماہرین کے ابتدائی اندازے کے مطابق اس خزانے کی مالیت تقریباً 90 لاکھ یورو یعنی بھارتی کرنسی میں تقریباً 90 کروڑ روپے ہے۔
چوری یا بینک کی نظر سے بچانے کے لیے دیوار میں چھپایا گیا
اب سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا خزانہ دیوار کے پیچھے کیسے پہنچا؟تاریخی ریکارڈ کی چھان بین سے معلوم ہوا کہ یہ جگہ 19ویں صدی کے آخر میں فیکٹری مالک تھیوفیلس وان ایشے کی ملکیت تھی۔ یہ شراب فیکٹری 1899 سے 1970 تک چلتی رہی۔ قیاس کیا جا رہا ہے کہ فیکٹری کے مالک نے سونے کو چوری یا بینک کی نظر سے بچانے کے لیے عام تجوری میں رکھنے کے بجائے اینٹوں کی دیوار تعمیر کرکے اس کے اندر چھپا دیا تھا۔
بغیر لالچ پولیس کو دی اطلاع
ایماندار کوبے اور اس کی ٹیم نے بغیر کسی لالچ کے فوری طور پر اس حیرت انگیز دریافت کی اطلاع پولیس کو دے دی۔ فی الحال سکیورٹی وجوہات کی بنا پر 90 کروڑ روپے مالیت کے اس سونے کو برسلز کے ایک انتہائی محفوظ مقام پر رکھا گیا ہے۔تاہم کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اب اس خزانے پر قانونی حق کس کا ہوگا، اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ کہیں یہ سونا کسی پرانے جرم یا کسی حل طلب دعوے سے تو منسلک نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


