Bharat Express DD Free Dish

Afghanistan Earthquake: افغانستان میں آئے تباہ کن زلزلہ میں مہلوکین کی تعداد 1400 سے متجاوز، 3000 سے زیادہ زخمی

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے فون پر بات کی اور ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا۔

فوٹو: روئٹرز

افغانستان کے مشرقی علاقوں میں اتوار کی رات آنے والے شدید زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 1,411 ہو گئی ہے جب کہ 3,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 6.3 ریکارڈ کی گئی اور اس کے بعد متعدد آفٹر شاکس بھی محسوس کیے گئے جن کی شدت 4 سے 5 کے درمیان رہی۔ الجزیرہ کے مطابق سب سے زیادہ جانی و مالی نقصان صوبہ کُنر میں ہوا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے ہم آہنگی انسانی امور (UNOCHA) کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق کُنر، لغمان، ننگرہار اور نورستان کے چار صوبوں میں اب تک کم از کم 800 ہلاکتیں رپورٹ ہو چکی ہیں، جب کہ مجموعی طور پر 12,000 افراد اس قدرتی آفت سے براہ راست متاثر ہوئے ہیں۔

زلزلے کا مرکز ننگرہار کے ضلع کامہ میں بتایا جا رہا ہے، جو پاکستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ متاثرہ علاقوں میں دشوار گزار پہاڑی راستے، منقطع سڑکیں اور موبائل نیٹ ورک کی بندش امدادی کاموں میں بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں۔ دریں اثنا افغانستان میں اس اس انسانی بحران کے پیش نظر بھارت نے افغانستان کے لیے فوری انسانی امداد کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے پیر کو افغانستان کے لیے ضروری امدادی سامان روانہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ’’زلزلے کے تناظر میں بھارت افغانستان کو انسانی امداد فراہم کر رہا ہے۔‘‘

بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغان وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے فون پر بات کی اور ہلاکتوں پر تعزیت کا اظہار کیا۔ جے شنکر نے بتایا کہ بھارت نے کابل میں ایک ہزار خیمے فراہم کیے ہیں، جب کہ 15 ٹن خوراکی امداد بھی کابل سے کُنر منتقل کی جا رہی ہے۔ مزید امدادی سامان کل سے بھارت سے روانہ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بھارت اس مشکل وقت میں افغانستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ ہم زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کرتے ہیں۔‘‘ اس زلزلے کے جھٹکے پاکستان کے کچھ علاقوں میں بھی محسوس کیے گئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read