Bharat Express DD Free Dish

Afghan Foreign Minister says technical error: دوسری پریس کانفرنس میں خواتین ہوئیں شریک، افغان وزیر خارجہ کا وضاحتی بیان: ’’خواتین کو پریس کانفرنس سے الگ رکھنا تکنیکی غلطی تھی‘‘

پریس کانفرنس کے دوران امیر خان متقی نے بھارت-افغانستان تعلقات، انسانی امداد، تجارتی راستوں اور سکیورٹی تعاون جیسے موضوعات پر اظہار خیال کیا۔

نئی دہلی کے دورے پر آئے افغانستان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی نے اتوار کو وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کو مدعو نہ کرنے کا فیصلہ جان بوجھ کر نہیں بلکہ ایک تکنیکی مسئلے کی وجہ سے ہوا تھا۔ انہوں نے بھارتی میڈیا اور سیاسی حلقوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی تنقید کے جواب میں کہا کہ اس فیصلے کے پیچھے کسی قسم کی صنفی امتیاز کی نیت شامل نہیں تھی۔

’’فہرست محدود تھی، کوئی بدنیتی نہیں تھی‘‘

متقی نے کہا ’’پریس کانفرنس کم وقت میں طے کی گئی تھی اور محدود صحافیوں کی فہرست بنائی گئی تھی۔ جو فہرست پیش کی گئی وہ مخصوص نوعیت کی تھی، اور یہ محض ایک تکنیکی مسئلہ تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے صرف ایک خاص فہرست کو دعوت نامہ بھیجا، اس کے علاوہ کوئی دوسری نیت نہیں تھی۔‘‘ افغان وزیر خارجہ نے آج ایک نئی پریس میٹنگ بھی بلائی، جس میں خواتین صحافیوں کو بھی مدعو کیا گیا۔

خواتین صحافیوں کو مدعو نہ کیے جانے پر تنازعہ

گزشتہ ہفتے متعدد خواتین صحافیوں اور میڈیا اداروں نے ناراضی کا اظہار کیا تھا کہ نئی دہلی میں امیر خان متقی کی پریس بریفنگ میں انہیں مدعو نہیں کیا گیا۔ یہ بریفنگ جمعہ کو بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات کے بعد منعقد ہوئی تھی۔

وزارت خارجہ ہند کی وضاحت

ہفتہ کے روز بھارتی وزارت خارجہ (MEA) نے وضاحت دی کہ اس پریس کانفرنس سے اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ وزارت نے اپنے بیان میں کہا: ’’کل نئی دہلی میں افغان وزیرِ خارجہ کی جانب سے جو پریس بریفنگ ہوئی اس میں وزارت خارجہ ہند کا کوئی کردار نہیں تھا۔‘‘ یہ پریس کانفرنس افغان سفارتخانے میں منعقد ہوئی تھی جس میں صرف منتخب مرد صحافیوں اور افغان سفارتخانے کے حکام کو شرکت کی اجازت تھی۔

کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے کیا تھا اعتراض

خواتین صحافیوں کے ساتھ اس امتیاز کے بعد ملک گیر سطح پر سیاسی ردعمل سامنے آیا۔ کانگریس رہنما پرینکا گاندھی واڈرا نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کریں۔ انہوں نے ’ایکس‘ (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا: ’’وزیراعظم نریندر مودی جی، براہ کرم وضاحت کریں کہ طالبان کے نمائندے کی پریس کانفرنس سے خواتین صحافیوں کو ہٹائے جانے پر آپ کا مؤقف کیا ہے؟ اگر آپ کی خواتین کے حقوق کی حمایت محض انتخابی دکھاوا نہیں ہے تو پھر بھارت میں یہ توہین کیسے برداشت کی گئی؟ یہ ملک اپنی خواتین پر فخر کرتا ہے وہی اس کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔‘‘

پریس کانفرنس میں علاقائی امور پر گفتگو

پریس کانفرنس کے دوران امیر خان متقی نے بھارت-افغانستان تعلقات، انسانی امداد، تجارتی راستوں اور سکیورٹی تعاون جیسے موضوعات پر اظہار خیال کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read