جموں و کشمیر کے ضلع پہلگام میں حالیہ دہشت گرد حملہ ملک کے لیے ایک صدمہ بن کر سامنے آیا، جہاں لشکرِ طیبہ سے وابستہ دہشت گردوں نے منگل کے روز سیاحوں کے ایک گروہ پر فائرنگ کی۔ اس دلخراش واقعے میں کم از کم 28 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں بعض غیر ملکی بھی شامل تھے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ حملے کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
متعدد مشہور شخصیات نے سوشل میڈیا پر واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
اداکار جوڑی دپیکا ککڑ اور شعیب ابراہیم، جو حال ہی میں اپنے بیٹے روحان کے ہمراہ جموں و کشمیر کے خاندانی دورے پر تھے، نے بھی اس واقعے پر ردِعمل دیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ حملے سے قبل ہی کشمیر سے نکل چکے تھے اور بالکل محفوظ ہیں۔ مداحوں کی تشویش اس وقت بڑھی جب دپیکا نے اپنی چھٹیاں مناتے ہوئے تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی تھیں، جن میں سے ایک ویڈیو پہلگام سے حملے سے صرف دو دن قبل کی تھی۔
منگل کو شعیب ابراہیم نے انسٹاگرام اسٹوری پر ایک پیغام شیئر کیا:
“ہیلو دوستو، آپ سب ہماری خیریت کے بارے میں فکرمند تھے… ہم سب محفوظ ہیں، آج صبح ہی کشمیر سے نکلے ہیں اور دہلی پہنچ گئے ہیں… آپ سب کی فکرمندی کا شکریہ… نیا ولاگ جلد آ رہا ہے۔”
تاہم “نیا ولاگ جلد آ رہا ہے” والے حصے نے سوشل میڈیا صارفین کو ناراض کر دیا۔ Reddit پر یہ پوسٹ وائرل ہو گئی جہاں صارفین نے اسے “بے حس اور وقت کی نزاکت کو نظر انداز کرنے والا” قرار دیا۔
ایک صارف نے لکھا:
“یہ ابھی بھی ولاگ کی بات کر رہا ہے، کیا یہ پاگل ہے؟”
ایک اور صارف نے کہا:
“میں جاننا چاہتا ہوں یہ کون لوگ ہیں جو یوٹیوبرز کے ولاگز کا انتظار کرتے ہیں؟ کیا یہ لوگ واقعی موجود ہیں جن کی وجہ سے کریئیٹرز اتنے خودغرض، مغرور اور بے حس ہو جاتے ہیں؟”
ایک اور کمنٹ تھا:
“یہ ایک بے حس پوسٹ ہے۔”
دوسری جانب، حملے میں جاں بحق ہونے والے 26 سیاحوں کی میتیں سری نگر منتقل کر دی گئی ہیں۔ یہ حملہ منگل کی دوپہر پہلگام کے ایک معروف مقام پر کیا گیا، اور اسے 2019 کے پلوامہ حملے کے بعد وادی کا سب سے ہلاکت خیز واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



