مانسون میں اچھی صحت کی کنجی ہے نیم گرم پانی
نئی دہلی: جیسے ہی مانسون دستک دیتا ہے، یہ اپنے ساتھ موسم میں نمی اور ہیومڈیٹی لے کر آتا ہے۔ اس موسم میں وائرس اور بیکٹیریا بھی تیزی سے بڑھتے ہیں جو کہ بہت سی بیماریاں لاتے ہیں۔ ایسے میں نیم گرم پانی پینے کی عادت آپ کی صحت کے لیے سب سے بڑی ڈھال بن سکتی ہے۔
مانسون میں سست ہوتی ہے قوت ہاضمہ
مانسون میں قوت ہاضمہ سست ہوتی ہے۔ اس کی وجہ سے جو کچھ ہم کھاتے ہیں وہ ٹھیک سے ہضم نہیں ہوتا اور جسم میں زہریلے مادے بننے لگتے ہیں۔ جسم میں جمع ہونے والے زہریلے مادے پسینے اور پیشاب کے ذریعے باہر نکلتے ہیں۔ نیم گرم پانی قوت مدافعت بڑھانے میں مددگار ہے جس سے نزلہ، کھانسی سے نجات ملتی ہے۔
نمی کے سبب کئی طرح کے انفیکشن کا خطرہ
نمی کی وجہ سے گلے میں خراش، کھانسی اور کئی طرح کے انفیکشن ہو سکتے ہیں۔ ایسی حالت میں نیم گرم پانی پینے سے ان مسائل سے کافی نجات ملتی ہے اور انفیکشن کو دور کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ مانسون کے دوران نمی کی وجہ سے اکثر جسم میں سختی محسوس ہوتی ہے۔ روزانہ نیم گرم پانی پینے سے مسلز کی اکڑن کم ہوتی ہے اور سکون محسوس ہوتا ہے۔
آیوروید کے مطابق نیم گرم پانی پینے سے جسم میں موجود زہریلے مادے نکل جاتے ہیں جس سے جلد پر پھوڑوں کے مسئلے سے بھی نجات ملتی ہے اور اسکن گلوئنگ اور شائننگ نظر آنے لگتی ہے۔
صبح خالی پیٹ نیم گرم پانی پینا چاہئے
صبح خالی پیٹ کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے، کھانے کے آدھے گھنٹے بعد اور رات کو سونے سے پہلے نیم گرم پانی پینا چاہئے۔ جب آپ صبح خالی پیٹ نیم گرم پانی پیتے ہیں تو نظام انہضام متحرک ہوتا ہے اور بیت الخلا میں آسانی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے پانی پینے سے ہاضمہ بہتر ہوتا ہے۔
نیم گرم پانی پینے سے اچھی نیند آتی
کھانے کے آدھے گھنٹے بعد دو سے تین گلاس پانی پینا کھانا آسانی سے ہضم ہونے میں مدد دیتا ہے، رات کو سونے سے پہلے نیم گرم پانی پینے سے اچھی نیند آتی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

