عالمی شہرت یافتہ ایرانی فلم ساز جعفر پناہی نے 78 ویں کانز فلم فیسٹیول کا سب سے بڑا ایوارڈ ‘Palme d’Or’ اپنی فلم ‘It Was Just an Accident’ کے لیے جیت لیا۔ بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ نکول کڈمین نے جیوری کی صدر جولیٹ بنوشے کے ساتھ مل کر کانز کے گرینڈ تھیٹر لومیر میں 78 ویں کانز فلم فیسٹیول کی اختتامی تقریب میں جعفر پناہی کو بہترین فلم کا ‘Palme d’Or’ ایوارڈ پیش کیا۔ جب جولیٹ بنوشے نے اس ایوارڈ کے لیے جعفر پناہی کے نام کا اعلان کیا تو وہ کچھ دیر اپنی نشست پر بیٹھے رہے۔ بعد میں جعفر پناہی نے کہا ’’میں یہاں اکیلا کیسے خوش رہ سکتا ہوں جب کہ میرے بہت سے ساتھی فلمساز اور فنکار میرے ملک ایران میں قید ہیں اور بہت سے لوگوں کو فلمیں بنانے سے روک دیا گیا ہے۔‘‘
واضح رہے کہ جعفر پناہی بھی حال ہی میں جیل سے رہا ہوئے ہیں۔ انھیں 2010 میں چھ سال کی سزا سنائی گئی تھی اور بیس سال تک فلمیں بنانے پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ وہ برسوں تک تہران میں نظر بند رہے۔ جب جعفر پناہی کا نام پام ڈی آر ایوارڈ کے لیے پکارا گیا تو گرینڈ تھیٹر Lumière میں تقریباً ساڑھے تین ہزار تماشائی کھڑے ہو گئے اور اپنی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے کافی دیر تک تالیاں بجاتے رہے۔

جیوری کی صدر جولیٹ بنوشے نے کہا کہ جعفر پناہی اپنے ملک (ایران) میں انسانی وقار اور آزادی کے لیے آمریت اور مذہبی بنیاد پرستی کے خلاف طویل عرصے سے لڑ رہے ہیں۔ یہ فلم تہران کی ایک رات کی کہانی ہے جس میں ایک عام کار حادثے کے بعد ایک کے بعد ایک کئی دلچسپ واقعات رونما ہوتے ہیں۔ یہ انتقام سے معافی اور ہمدردی کا سفر بھی ہے اور قتل کی اخلاقیات پر بحث بھی۔
ایوارڈ جیتنے کے بعد جعفر پناہی نے کانز فلم فیسٹیول کی آفیشل پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’میں اس ایوارڈ سے بہت خوش ہوں لیکن تھوڑی دیر کے لیے میں ان ساتھی فلمسازوں کی یادوں میں کھو گیا۔ ایک ایک کرکے ان کے چہرے میرے سامنے آنے لگے جو میرے ساتھ جیل میں تھے اور اب بھی جیل میں ہیں۔ میں یہ ایوارڈ ان ایرانی عوام کے نام کرتا ہوں جو اپنی زندگیاں داؤ پر لگا کر آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب ایرانی سنیما کو کوئی نہیں جانتا تھا، آج ایرانی سنیما پوری دنیا میں اپنی ایک خاص شناخت رکھتا ہے، اس شناخت کو بنانے میں بہت سے ایرانی فلمسازوں کا تعاون ہے جس کی وجہ سے ہم یہاں تک پہنچے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ ہم فلم بنانے میں زندگی لگا دیتے ہیں اور پیسے کی دقت ہمیشہ رہتی ہے، کیوں کہ ہم ہر کسی سے پیسہ نہیں لے سکتے۔
جعفر پناہی نے مزید کہا ’’ آج ہر ملک میں تشدد، جنگ اور آمریت ہے۔ ہمیں سنیما کے ذریعے یہ امید ہے کہ ایک دن سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا اور سب کو انصاف ملے گا۔ انھوں نے اسٹیج پر اور پریس میں اپنی مادری زبان فارسی میں ہی بات کی، جس کا پہلے فرنچ اور پھر فرنچ سے انگریزی میں ترجمہ کیا گیا۔
2022 میں جیل سے رہا ہونے کے بعد جعفر پناہی کی یہ پہلی فلم ہے۔ حالاں کہ بتایا جا رہا ہے کہ انھوں نے ایرانی حکومت کی اجازت کے بغیر یہ فلم بنائی ہے اور اس فلم میں عورتوں کو حجاب کے بغیر دکھایا ہے۔ یہ ایک طرح ایرانی حکومت کے حجاب قانون کے خلاف سنیمائی احتجاج ہے۔ اس معاملے کو لے کر ابھی حال ہی میں ایران میں ایک بہت بڑا عوامی احتجاج بھی ہوا تھا۔

کانز فلم فیسٹیول میں پام ڈی آر ایوارڈ جیتنے کے بعد جعفر پناہی دنیا کے چوتھے ایسے فلم ساز بن گئے ہیں جنھیں تمام بڑے فلمی میلوں میں بہترین فلم کا ایوارڈ ملا ہے۔ انھیں برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ٹیکسی کے لیے بہترین فلم (2015) کا گولڈن بیئر ایوارڈ اور وینس انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں دی سرکل (2000) کے لیے گولڈن لائن ایوارڈ مل چکا ہے۔
جانیے اور کس کو ملا کون سا انعام
دریں اثنا کانز فلم فیسٹیول کا دوسرا سب سے بڑا ایوارڈ ‘گرینڈ پری’ ڈنمارک کے یوآخم ٹریر کو ان کی فلم ‘سینٹیمنٹل ویلیو’ کے لیے دیا گیا۔ جب کہ بہترین ہدایت کار کا ایوارڈ برازیل کے Kleber Mendonca Filho کو ان کی فلم ‘دی سیکریٹ ایجنٹ’ کے لیے دیا گیا۔ وہیں ویگنر مورا کو اس فلم میں شاندار اداکاری کے لیے بہترین اداکار کا ایوارڈ ملا۔
جیوری کی پریس کانفرنس میں یہ سوال اٹھایا گیا کہ ایک ہی فلم کو دو ایوارڈ کیوں دیے گئے جو عام طور پر کانز فلم فیسٹیول میں نہیں ہوتا۔ بہترین اداکارہ کا ایوارڈ نادیہ میلتی کو فرانس کی حفصہ ہرزی کی فلم ‘دی لٹل سسٹر’ میں شاندار اداکاری پر دیا گیا۔ بہترین اسکرین پلے کا ایوارڈ فلم ‘ینگ مدرز’ کو دیا گیا جس کے مصنف اور ہدایت کار بیلجیم کے جین پیئر ڈارڈن اور لوک ڈارڈن (ڈارڈین برادرز) تھے۔ اب تک وہ کانز فلم فیسٹیول میں نو بار ایوارڈ حاصل کر چکے ہیں۔

جیوری پرائز اس بار مشترکہ طور پر ہسپانوی فلم ‘سیراٹ’ کے لیے فرانس کے اولیور لیز اور جرمنی کی ماشا شلنسکی کو ان کی فلم ‘ساؤنڈ آف فالنگ’ کے لیے دیا گیا۔ اس کے علاوہ جیوری نے چین کے بی گان کو ان کی سائنس فکشن فلم ‘ریسریکشن’ کے لیے خصوصی ایوارڈ پیش کیا۔ جیوری کی پریس کانفرنس میں جب اس بارے میں سوال کیا گیا تو جیوری کی صدر جولیٹ بنوشے نے کہا کہ یہ فیصلہ متفقہ طور پر کیا گیا کیونکہ یہ ایک منفرد فلم تھی۔ یہ ایک نظم کی طرح ہے جو آپ کو خواب دیکھنے کی دعوت دیتی ہے۔
شارٹ فلم کے لیے پام ڈی اور عراق کے توفیق بارہوم کو ان کی فلم ‘آئی ایم گلڈ یو آر ڈیڈ ناؤ’ کے لیے دیا گیا۔ کانز فلم فیسٹیول کی تاریخ میں کسی عراقی فلم ساز کو دیا جانے والا یہ پہلا ایوارڈ ہے۔ اسی طرح بنگلہ دیش کے عدنان الرجیف نے اپنی فلم ‘علی’ کے لیے جیوری کا اسپیشل مینشن ایوارڈ حاصل کیا، یہ پہلا موقع ہے جب کسی بنگلہ دیشی فلمساز کو کانز فلم فیسٹیول میں یہ ایوارڈ ملا ہے۔ وہیں پہلی فلم کے لیے دیا جانے والا ایوارڈ کیمرہ ڈی اور اس بار حسن ہادی کو ‘دی پریذیڈنٹ کیک’ کے لیے دیا گیا۔ فلم کو ڈائریکٹرز فورٹ نائٹ سیکشن میں دکھایا گیا، جو کانز فلم فیسٹیول کی سائڈبار سرگرمی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


