نئی دہلی: بھارت کا قومی آبی جانور گنگا ڈولفن (Platanista gangetica)، جسے مقامی زبان میں سوسو یا سونس بھی کہا جاتا ہے، آج اپنے وجود کے لیے سنگین خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ یہ دنیا کی ان منفرد ڈولفن اقسام میں شامل ہے جو صرف میٹھے پانی کی ندیوں میں پائی جاتی ہیں اور بنیادی طور پر بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش کی دریائی نظام میں رہتی ہیں۔
عام سمندری ڈولفن کے برعکس گنگا ڈولفن کی تقریباً 90 فیصد آبادی صرف بھارت میں موجود ہے۔ یہ آبی جانور اپنی روزمرہ زندگی اور شکار کے لیے مکمل طور پر ایکو لوکیشن یعنی آواز کی بازگشت کے ذریعے راستہ اور شکار تلاش کرنے کے نظام پر انحصار کرتا ہے۔ یہ صرف 5 سے 30 سیکنڈ تک پانی کی سطح پر آتی ہے، جس کی وجہ سے اسے دیکھنا اور اس پر تحقیق کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔
گنگا ڈولفن پیدائش کے وقت چاکلیٹی بھورے رنگ کی ہوتی ہے جبکہ بالغ ہونے پر اس کا رنگ سرمئی مائل بھورا اور جلد نرم و ہموار ہو جاتی ہے۔ نر ڈولفن عموماً مادہ سے چھوٹی ہوتی ہے۔ مادہ ہر دو سے تین سال میں صرف ایک بچے کو جنم دیتی ہے۔ یہ عموماً تنہا یا ماں اور بچے کی جوڑی کی صورت میں رہنا پسند کرتی ہے اور بڑی ٹولیوں میں نہیں گھومتی۔
بھارت کی وزارتِ ماحولیات، جنگلات و موسمیاتی تبدیلی کے مطابق گنگا ڈولفن نہ صرف قومی آبی جانور ہے بلکہ دریائی ماحولیاتی نظام کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اسے دریا کی صحت کا قدرتی اشاریہ بھی مانا جاتا ہے، کیونکہ جہاں ڈولفن موجود ہو وہاں پانی نسبتاً صاف تصور کیا جاتا ہے۔
آبی آلودگی، صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز کا ندیوں میں بہاؤ، ڈیم اور آبپاشی منصوبے، ماہی گیری کے جال میں پھنسنا اور غیر قانونی شکار اس کے وجود کے لیے سب سے بڑے خطرات ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں میں اس کی آبادی اور پھیلاؤ کے علاقے میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے اسے “خطرے سے دوچار” (Endangered) زمرے میں شامل کیا ہے۔
آلودگی کے باعث ڈولفن کے جسم میں زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں جبکہ ڈیم ندیوں کو مختلف حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں، جس سے خوراک کی دستیابی اور افزائش متاثر ہوتی ہے۔ ماہی گیری کے جال میں حادثاتی طور پر پھنس جانا یا گوشت اور تیل کے لیے شکار بھی بڑی تعداد میں اموات کا سبب بنتا ہے۔
بھارت حکومت کے پریس انفارمیشن بیورو کے مطابق 2021 سے 2023 کے درمیان ہونے والے ملک گیر سروے میں تقریباً 6,327 دریائی ڈولفن کی گنتی کی گئی۔ یہ گنگا، جمنا، چمبل، گنڈک، گھاگھرا، کوسی، مہانندا اور برہم پتر ندیوں میں پائی گئیں، جبکہ بیاس ندی میں نسبتاً کم تعداد میں سندھ ڈولفن موجود ہے۔ اتر پردیش اور بہار میں ان کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد مغربی بنگال اور آسام کا نمبر آتا ہے۔
تحفظ کی کوششیں
تحفظ کے اقدامات کے تحت 1991 میں بہار کے ضلع بھاگلپور میں وکرم شِلا گنگا ڈولفن سینکچری قائم کی گئی، جو تقریباً 60 کلومیٹر طویل محفوظ علاقہ ہے اور بھارت کا واحد ڈولفن محفوظ علاقہ مانا جاتا ہے۔ یہاں ڈولفن کے علاوہ گھڑیال، اودبلاؤ اور کچھوے بھی پائے جاتے ہیں۔
وزارتِ ماحولیات پروجیکٹ ڈولفن کے تحت نیشنل کیمپا اتھارٹی اور بھارتی وائلڈ لائف انسٹی ٹیوٹ کے تعاون سے اس نایاب آبی جانور کے تحفظ کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر دریاؤں کی صفائی، غیر قانونی شکار پر قابو اور قدرتی بہاؤ کو برقرار رکھنے کے اقدامات مؤثر انداز میں جاری رہے تو گنگا ڈولفن کو معدومی کے خطرے سے بچایا جا سکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
