پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کے بعد پاکستانی اداکار فواد خان اور بالی ووڈ اداکارہ وانی کپور کی نئی آنے والی فلم‘ عبیر گلال’ بھی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ دراصل لوگ سوشل میڈیا پر پوسٹ کر رہے ہیں اور اس فلم پر پابندی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
عبیر گلال پر پابندی لگانے کا مطالبہ
آپ کو بتاتے چلیں کہ آرتی ایس باغی کی ہدایت کاری میں بننے والی رومانوی کامیڈی عبیر گلال 9 مئی کو سینما گھروں میں ریلیز ہونے جا رہی ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ پہلگام میں منگل کو ہوئے دہشت گردانہ حملے میں 28 افراد کی موت اور کئی دیگر شہری زخمی ہونے والے دل دہلا دینے والے واقعے پر غم و غصے کے درمیان لوگوں کے ایک طبقےنے سوشل میڈیا پر فلم پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’عبیر گلال کو بھارت کے کسی بھی تھیٹر میں ریلیز کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایک اور نے یوزر نےلکھا: “کیا ہم اب بھی ہندوستان میں پاکستانی فنکاروں کے ساتھ عبیر گلال جیسی فلمیں بننے دیں گے؟”
کچھ نے اس کا موازنہ 2016 کے اڑی حملے سے کیا
قابل ذکر بات یہ ہے کہ کچھ لوگوں نے اس کا موازنہ 2016 کے اڑی حملے سے کیا اور کہا کہ اے دل ہے مشکل، جس میں فواد خان نے بھی مرکزی کردار ادا کیا تھا، دہشت گردی کے حملے کے صرف ایک ماہ بعد ریلیز ہوئی تھی۔ اڑی حملہ 18 ستمبر کو ہوا تھا ،جس کے بعد ہندوستان میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ رنبیر کپور، انوشکا شرما اور ایشوریا رائے بچن کی اداکاری والی ‘ADHM’ 28 اکتوبر کو بڑی اسکرین پر ریلیز ہوئی۔
ایم این ایس نے بھی عبیر گلال کی مخالفت کی
کہا جا رہا ہے کہ عبیر گلال سرحد پار رومانوی ڈرامہ ہے۔ فلم کو کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر اس میں فواد خا ن کو کاسٹ کرنے پر۔ اس مہینے کے شروع میں، ایم این ایس (مہاراشٹر نونرمان سینا) نے مہاراشٹر میں فلم کی ریلیز کی مخالفت کی تھی۔ پارٹی نے ہندوستان میں کام کرنے والے پاکستانی فنکاروں کے خلاف اپنی دیرینہ مخالفت کا حوالہ دیا ہے، جس سے قومی سلامتی اور ہندوستانی فلم انڈسٹری پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے ڈسٹری بیوٹرز اور سینما مالکان کو فلم دکھانے کے خلاف خبردار کیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

