Bharat Express DD Free Dish

Sibghatullah




Bharat Express News Network


حاجی ناظم شیخ نے کہا کہ بھارت کو دنیا ایک زرعی ملک کے طور پر جانتی ہے اور جب ایسے ملک کا وزیر اعظم بیرونی ممالک کے دورے کے دوران زراعت، کسانوں اور زرعی مصنوعات کی بات کرتا ہے تو اس کا عالمی سطح پر مثبت اثر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ہر بین الاقوامی پلیٹ فارم پر بھارتی کسانوں کے مفادات کو سامنے رکھتے ہیں، جس سے دنیا میں بھارتی زرعی مصنوعات کی مانگ بڑھنے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔

وزیر اعظم مودی کا پانچ ممالک پر مشتمل تاریخی غیر ملکی دورہ مکمل ہوگیا ہے، جسے بھارت کی سفارتی، اقتصادی اور تزویراتی پالیسی کے لحاظ سے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ 15 مئی کو نئی دہلی سے روانہ ہونے والے وزیر اعظم نے متحدہ عرب امارات، نیدرلینڈز، سویڈن، ناروے اور اٹلی کا دورہ کیا۔

فلم کی ہدایت کاری معروف فلم ساز پرشانت نیل کر رہے ہیں، جو اس سے قبل کئی بلاک بسٹر فلموں کے ذریعے اپنی الگ شناخت بنا چکے ہیں۔ ’ڈریگن‘ کی پہلی جھلک میں ایک تاریک، پرتشدد اور سنسنی خیز دنیا دکھائی گئی ہے، جہاں طاقت، خوف اور خونریزی کا راج نظر آتا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب مقامی مسجد کمیٹی کی جانب سے قربانی اور عطیات سے متعلق ایک پوسٹر جاری کیا گیا۔ اس پوسٹر میں ایک جانب بکرے کی تصویر جبکہ دوسری جانب گائے کی تصویر استعمال کی گئی تھی۔ پوسٹر سوشل میڈیا پر گردش کرنے کے بعد بعض حلقوں نے اس پر اعتراض ظاہر کیا اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔

یہ معاملہ کئی برس پرانا ہے۔ حسین جہاں نے الزام عائد کیا تھا کہ محمد شامی نے گھریلو اخراجات کے لیے انہیں ایک لاکھ روپے کا چیک دیا تھا، جو بینک میں جمع کرانے پر باؤنس ہوگیا۔ اس کے بعد انہوں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے شامی کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا۔

خبر لکھے جانے تک وزیر اعظم مودی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر اس ویڈیو کو 112 ملین یعنی 11.2 کروڑ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا تھا۔ سوشل میڈیا صارفین نے اس ویڈیو کو نہ صرف دلچسپ قرار دیا بلکہ اسے دونوں رہنماؤں کے دوستانہ تعلقات کی ایک خوبصورت علامت بھی بتایا۔

وزیر اعظم مودی کے پانچ ممالک کے حالیہ سفارتی دورے کا آخری مرحلہ اٹلی تھا، جہاں روم پہنچنے پر اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ان کا نہایت گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اس ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ تعلقات، دفاعی تعاون، تجارت، ٹیکنالوجی، توانائی اور عالمی چیلنجز سمیت کئی اہم موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔

وزیر اعظم مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بدھ کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ بھارت اور اٹلی اپنی گہری اسٹریٹجک شراکت داری، ثقافتی رشتوں اور مشترکہ جمہوری اقدار کی بنیاد پر عالمی چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کر سکتے ہیں۔

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈوکلام تنازعہ کے دوران بھی چین کی نظریں اسی راہداری پر مرکوز تھیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ کسی ممکنہ جنگی صورتحال میں اگر اس تنگ راہداری کو بند کر دیا جائے تو پورا شمال مشرقی بھارت ملک کے باقی حصوں سے کٹ سکتا ہے۔ اسی خطرے کو دیکھتے ہوئے مرکزی حکومت کافی عرصے سے یہاں ایک مضبوط سیکورٹی ڈھانچہ قائم کرنا چاہتی تھی۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ بستر میں ”سفید انقلاب“ کا آغاز دراصل اس پورے خطے کی معاشی اور سماجی تقدیر بدلنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔ ان کے مطابق جن علاقوں میں کبھی گولیوں کی آوازیں گونجتی تھیں، وہاں اب ترقی، زراعت اور خود کفالت کی نئی داستان لکھی جائے گی۔