نئی دہلی : اٹلی میں جاری احتجاجی مظاہلوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہفتے کی شام بھی ملک کے کئی شہروں میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر اتر آئے۔ مظاہرین نے بڑھتی مہنگائی، فوجی اخراجات میں اضافے اور فوجی توسیع کے خلاف آواز اٹھائی۔ کئی مقامات پر حالات اس قدر کشیدہ ہوگئے کہ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں شروع ہوگئیں۔
بولونیا میں مظاہرہ ہوا پرتشدد
مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق، بولونیا میں احتجاج کے دوران کچھ مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تصادم کی صورت حال پیدا ہوگئی۔ اٹلی کے معروف اخبار ’کوریئرے ڈیلا سیرا‘ کے مطابق، ان واقعات کے بعد ہنگامی طبی خدمات کو مجموعی طور پر 17 کال موصول ہوئیں۔ ان میں سے 6 افراد کی حالت ایسی تھی کہ انہیں ایمبولینس کے ذریعے اسپتال منتقل کرنا پڑا۔
روم میں جنگ مخالف مارچ کے بعد کشیدگی
خبر رساں ایجنسی اے این ایس اے کے مطابق، دارالحکومت روم میں ہفتے کی دوپہر مظاہرین نے پیاتسا ڈیلا ریپوبلیکا سے جنگ مخالف مارچ نکالا۔ دن ڈھلنے کے ساتھ ہی شہر کے مرکزی حصے میں کشیدگی بڑھنے لگی اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ صورت حال پر قابو پانے کے لیے سکیورٹی فورسز نے پانی کی تیز بوچھاروں اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔
ٹیورن میں بھی مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے
ٹیورن شہر میں بھی احتجاج کے دوران کشیدگی دیکھنے کو ملی۔ یہاں مظاہرین کا بنیادی غصہ دفاعی بجٹ میں اضافے اور ایندھن کی قیمتوں میں مسلسل بڑھوتری کے خلاف تھا۔ بعض مظاہرین نے پولیس کی جانب پٹاخے اور بوتلیں پھینکیں، جس کے بعد پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے آنسو گیس چھوڑی اور بھیڑ کو قابو میں کرنے کی کوشش کی۔
گزشتہ ہفتے بھی کئی شہروں میں ہوئے تھے پرتشدد مظاہرے
دراصل، گزشتہ ہفتے کے اختتام پر بھی اٹلی کے کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ خاص طور پر میلان میں صورت حال کافی بگڑ گئی تھی، جہاں تشدد اور لوٹ مار کے واقعات سامنے آئے تھے۔ ان واقعات کے بعد اٹلی کے وزیر داخلہ ماتیو پیانتیدوسی نے سکیورٹی انتظامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے ملک بھر میں اضافی پولیس فورس تعینات کرنے کے احکامات دیے تھے۔ خاص طور پر ان شہروں میں سکیورٹی بڑھائی گئی تھی، جہاں بڑے پیمانے پر ریلیوں اور مظاہروں کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
وزیر اعظم میلونی نے تشدد کی مذمت کی
اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے ہفتے کی شام سوشل میڈیا کے ذریعے ان واقعات پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ تشدد کسی بھی صورت حال کا حل نہیں ہوسکتا اور تمام شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
پُرامن احتجاج کی حمایت
میلونی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان لوگوں کی حفاظت بھی اتنی ہی اہم ہے جو پُرامن طریقے سے اپنی بات رکھنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کام پر جانے والے افراد اور عام شہریوں کو بھی محفوظ ماحول فراہم کیا جانا چاہیے، تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے اپنے شہروں میں رہ سکیں۔
تشدد پھیلانے والوں کے لیے معاشرے میں کوئی جگہ نہیں
وزیر اعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ معاشرے میں ایسے لوگوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے جن کا مقصد صرف تصادم پیدا کرنا اور تشدد کا ماحول بنانا ہو۔ انہوں نے امن اور قانون کی بالادستی برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

