نئی دہلی/ترواننت پورم: سی ایم آر ایل-ایکسالوجک معاملے میں اب سب کی نظریں سپریم کورٹ پر ٹکی ہوئی ہیں۔ کیرالہ ہائی کورٹ سے جھٹکا لگنے کے بعد سابق وزیر اعلیٰ پنارائی وجین اور ان کا خاندان جمعہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کرنے جا رہا ہے۔ اس قانونی لڑائی کے اثرات نہ صرف کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کے سینئر لیڈر وجین پر پڑیں گے، بلکہ اس جماعت پر بھی مرتب ہوں گے، جو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی انتخابی شکست سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ای ڈی اور ویجلنس کی الگ الگ تحقیقات
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور ویجلنس اینڈ اینٹی کرپشن بیورو (وی اے سی بی) دو الگ الگ معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ ایسے میں سپریم کورٹ وجین کے لیے اگلا قانونی محاذ بن گیا ہے۔ تحقیقات میں کسی بھی قسم کی تیزی سی پی آئی (ایم) کے سیاسی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ پارٹی کو اپنے قیام کے بعد پہلی مرتبہ تمام ریاستوں میں اقتدار سے باہر ہونا پڑا ہے۔ وجین اپنی بیٹی ٹی وینا اور ان کی بند ہو چکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی ’ایکسالوجک‘ سے متعلق بدعنوانی کے معاملے میں پہلے ملزم ہیں۔
حوالہ لین دین کا معاملہ بھی زیر تفتیش
حوالہ لین دین سے متعلق ایک دوسرے معاملے میں سابق وزیر اور سی پی آئی (ایم) کے رکن اسمبلی پی اے محمد ریاض پہلے ملزم ہیں۔ ریاض، پنارائی وجین کے داماد ہیں۔ اس دوران سی پی آئی (ایم) کی قیادت نے وجین کی حمایت میں متحد رہنے کا مظاہرہ کیا ہے اور کیرالہ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے عہدے سے ان کے استعفے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
بدعنوانی کے الزامات پر پارٹی کے موقف پر سوالات
پارٹی کے اس فیصلے سے سیاسی اخلاقیات کے حوالے سے اس کے موقف پر سوال اٹھنے لگے ہیں، کیونکہ سی پی آئی (ایم) خود دوسری جماعتوں کے رہنماؤں سے بدعنوانی کے الزامات پر جواب دہی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ یہ تنازع کمیونسٹ پارٹی کے سابق جنرل سکریٹری پرکاش کرات کی جانب سے ایس این سی-لاولین معاملے میں پنارائی وجین کے دفاع کی یاد دلاتا ہے۔ اس وقت کرات نے دلیل دی تھی کہ وجین کو پارٹی کے ریاستی سکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ اس وقت وہ حکومت میں کسی عہدے پر فائز نہیں تھے۔
انتخابی شکست کے جائزے کے درمیان قانونی جھٹکا
وجین کو یہ قانونی جھٹکا ایسے وقت لگا ہے، جب پارٹی کی ضلعی کمیٹیاں اپریل 2026 میں ہونے والی انتخابی شکست کی وجوہات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ریاستی اسمبلی انتخابات میں بائیں بازو کے محاذ کی نشستوں کی تعداد 99 سے گھٹ کر صرف 35 رہ گئی، جبکہ کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) نے 102 نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 3 نشستیں ملی تھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
