Bharat Express DD Free Dish

Abhijit Dipke’s Grandmother Passes Away: ابھجیت دپکے کی دادی کا انتقال، عمر رسیدہ ہونے کے باعث طویل عرصے سے تھیں علیل

ہفتہ کی صبح سی جے پی کے احتجاج سے قبل دہلی پولیس نے بڑی کارروائی کی۔ پولیس نے ابھجیت دپکے، سورَو داس اور آشو توش رانکا کو اس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ طیارے میں سوار تھے۔

ہنگولی: مہاراشٹر کے ہنگولی سے ایک افسوس ناک خبر سامنے آئی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دپکے کی دادی کا ہفتہ کے روز انتقال ہوگیا۔

ہنگولی کے آبائی گاؤں میں رہتی تھیں دادی

ابھجیت دپکے کی دادی ہنگولی ضلع کے سنتوک پمبری میں واقع ان کے آبائی گاؤں میں رہتی تھیں۔ وہ طویل عرصے سے بیمار تھیں اور عمر زیادہ ہونے کے باعث گزشتہ چند دنوں سے ان کی طبیعت مزید خراب چل رہی تھی۔ ہفتہ کے روز انہوں نے آخری سانس لی۔ وہ ابھجیت دپکے کے والد بھگوان راؤ دپکے کی والدہ تھیں۔

انتقال کے وقت دہلی میں تھے ابھجیت دپکے

جس وقت دادی کے انتقال کی افسوس ناک خبر سامنے آئی، اس وقت ابھجیت دپکے خود دہلی میں موجود تھے۔ وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر احتجاج کرنے کے لیے ہفتہ کی صبح ہی ممبئی سے دہلی روانہ ہوئے تھے۔ حالانکہ، دہلی ایئرپورٹ پر پہنچتے ہی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

والدین چھترپتی سمبھاجی نگر میں موجود

ابھجیت کے والدین انیتا اور بھگوان دپکے اس وقت چھترپتی سمبھاجی نگر میں ہیں۔ ان کے گھر کے باہر پولیس کی تعیناتی کی گئی ہے۔ دادی کے انتقال کی خبر ملنے کے بعد دونوں کے فوری طور پر ہنگولی روانہ ہونے کی اطلاع ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ دادی کے انتقال کی اطلاع ملنے کے بعد دہلی پولیس ابھجیت دپکے کو چھترپتی سمبھاجی نگر یا ہنگولی جانے کی اجازت کب دیتی ہے۔

احتجاج سے پہلے دہلی پولیس کی کارروائی

واضح رہے کہ ہفتہ کی صبح سی جے پی کے احتجاج سے قبل دہلی پولیس نے بڑی کارروائی کی۔ پولیس نے پارٹی کے بانی ابھجیت دپکے، شریک کنوینر سورَو داس اور ترجمان آشو توش رانکا کو اس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ طیارے میں سوار تھے۔

’’میں یہاں گرفتار ہونے آیا ہوں، گرفتار کرو‘‘

سی جے پی کے مطابق، دہلی پولیس کے اہلکار اس طیارے کے اندر داخل ہوگئے جس کے ذریعے ابھجیت دپکے قومی دارالحکومت پہنچے تھے۔ یہ پرواز چند منٹ قبل ہی اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتری تھی۔ حراست کے دوران ابھجیت دپکے نے دہلی پولیس سے کہا، ’’میں یہاں گرفتار ہونے کے لیے آیا ہوں۔ مجھے گرفتار کرو۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

    Tags:

Also Read