Bharat Express DD Free Dish

Data Centers in India: ہندوستان میں ڈیٹا سینٹرز کی تیز توسیع سے بجلی، سائبر سکیورٹی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق خطرات میں ہورہا ہے اضافہ: رپورٹ

کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے جامع رسک پلاننگ انتہائی اہم ہوگی، جس میں بجلی، پانی، آب و ہوا اور سائبر خطرات کا جائزہ شامل ہو۔ ہندوستان کے ڈیجیٹل اور اے آئی اہداف میں ڈیٹا سینٹرز کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے ان خطرات کی پیشگی منصوبہ بندی مزید ضروری ہوگئی ہے۔

نئی دہلی: ہندوستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور ڈیجیٹل خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث ڈیٹا سینٹر صنعت تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ تاہم، اس شعبے میں بجلی کی دستیابی، سائبر سکیورٹی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی سے متعلق خطرات بھی بڑھ رہے ہیں۔ منگل کو جاری ایک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ انشورنس بروکر کمپنی ایون (Aon) کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں نصب ڈیٹا سینٹر کی صلاحیت 2030 تک چار گنا سے زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ نئی صلاحیت تیار کرنے کے لیے کئی منصوبوں پر پہلے ہی کام جاری ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بجلی کی دستیابی اب اس بات کا تعین کرنے میں ایک اہم عنصر بنتی جارہی ہے کہ نئے ڈیٹا سینٹر کہاں قائم کیے جاسکتے ہیں اور منصوبے کتنی تیزی سے شروع کیے جاسکتے ہیں۔ اے آئی سے متعلق بڑھتے ہوئے ورک لوڈ کے باعث توانائی کی کھپت میں اضافہ ہورہا ہے، جس سے بجلی کے بنیادی ڈھانچے پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ایون انڈیا کے کمرشل رسک سلوشنز کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور سربراہ سشانت سرین نے کہا کہ گرڈ سے متعلق رکاوٹوں اور کنکشن میں تاخیر سے نمٹنے کے لیے ڈیولپرز تیزی سے متبادل توانائی کے حل پر غور کر رہے ہیں۔ ان میں سائٹ پر بجلی کی پیداوار، بیٹری اسٹوریج اور ہائبرڈ انرجی سسٹم شامل ہیں۔ سرین نے کہا کہ ان اقدامات سے ڈیٹا سینٹر کی مضبوطی اور بجلی کی مسلسل فراہمی بہتر ہوسکتی ہے، تاہم ان کے ساتھ آپریشن، دیکھ بھال اور آگ لگنے سے متعلق خطرات بھی پیدا ہوتے ہیں۔

2030 تک بجلی کی طلب میں 165 فیصد اضافے کا امکان

کمپنی نے ایسے مطالعات کا حوالہ دیا ہے جن کے مطابق دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب 2030 تک 165 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔ ایون نے کہا کہ اے آئی کی قیادت میں ہونے والی ترقی ڈیٹا سینٹرز سے وابستہ جسمانی خطرات کی نوعیت بھی تبدیل کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں زیادہ بجلی کی صلاحیت اور کولنگ کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ خاص طور پر پانی کی قلت والے علاقوں میں پانی کی دستیابی ایک بڑی تشویش بنتی جارہی ہے۔ اس سے ڈیٹا سینٹرز کے لیے مناسب مقام کے انتخاب کا عمل مزید پیچیدہ ہوگیا ہے۔ جسمانی خطرات کے ساتھ ساتھ سائبر خطرات بھی ڈیٹا سینٹرز کے آپریشن سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ جڑتے جارہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، جدید ڈیٹا سینٹرز ایک دوسرے سے جڑے کنٹرول سسٹمز، ڈیجیٹل مانیٹرنگ ٹولز اور تھرڈ پارٹی وینڈرز پر انحصار کرتے ہیں۔ ایسے میں سائبر حملوں کے نتیجے میں آپریشن متاثر ہوسکتے ہیں، اثاثوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور طویل عرصے تک کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انشورنس کمپنیوں کا لائف سائیکل بنیاد پر خطرات کا جائزہ

ایون نے کہا کہ انشورنس کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے تیزی سے لائف سائیکل پر مبنی طریقہ اختیار کر رہی ہیں۔ اس میں ڈیزائن اور تعمیر سے لے کر بجلی کی مضبوطی، سائبر خطرات اور طویل مدتی آپریشن تک تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ ڈیٹا سینٹر شعبے میں انشورنس کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے ایون نے بتایا کہ اس کے ڈیٹا سینٹر لائف سائیکل انشورنس پروگرام کے تحت انشورنس کی گنجائش 3.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب ڈالر ہوگئی ہے۔ کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کے لیے جامع رسک پلاننگ انتہائی اہم ہوگی، جس میں بجلی، پانی، آب و ہوا اور سائبر خطرات کا جائزہ شامل ہو۔ ہندوستان کے ڈیجیٹل اور اے آئی اہداف میں ڈیٹا سینٹرز کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے، اس لیے ان خطرات کی پیشگی منصوبہ بندی مزید ضروری ہوگئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read