نئی دہلی : کبھی کبھی ہارٹ اٹیک کی ابتدائی علامات پر توجہ نہ دینا آسان ہوتا ہے، خاص طور پر جب یہ علامات آہستہ آہستہ شروع ہوں یا وقفے وقفے سے ظاہر ہوں۔ نئی یا غیر معمولی علامات کو سنجیدگی سے لینا اور فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔ اکثر لوگ ہارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ کو ایک ہی سمجھتے ہیں، لیکن دونوں الگ الگ طبی حالتیں ہیں۔زیادہ تر ہارٹ اٹیک کی صورت میں کارڈیک اریسٹ نہیں ہوتا، کارڈیک اریسٹ کی عام وجوہات میں ہارٹ اٹیک بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ دل کی دھڑکن رکنے کی دیگر وجوہات بھی ہوسکتی ہیں۔
جان بچانے والے اقدامات کے بارے میں جانیں۔
کارڈیک اریسٹ میں دل اچانک دھڑکنا بند کردیتا ہے
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق کارڈیک اریسٹ میں دل اچانک دھڑکنا بند کردیتا ہے۔ عموماً ایسا دل میں پیدا ہونے والی برقی خرابی کی وجہ سے ہوتا ہے، جس سے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہوجاتی ہے۔جب دل خون پمپ کرنا بند کردیتا ہے تو دماغ، پھیپھڑوں اور جسم کے دیگر اہم اعضا تک خون نہیں پہنچ پاتا۔ کارڈیک اریسٹ کی صورت میں متاثرہ شخص کسی ردعمل کا اظہار نہیں کرتا۔ اس کی سانس رک سکتی ہے یا وہ صرف ہانپتا ہوا محسوس ہوسکتا ہے۔ فوری مدد نہ ملنے کی صورت میں جان جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق کارڈیک اریسٹ کی صورت میں فوری سی پی آر شروع کرنے سے متاثرہ شخص کے بچنے کے امکانات 2 سے 3 گنا تک بڑھ سکتے ہیں۔ سب سے پہلے مقامی ایمرجنسی نمبر پر کال کریں اور اس کے بعد سی پی آر شروع کریں۔ اگر قریب آٹومیٹڈ ایکسٹرنل ڈیفبریلیٹر (اے ای ڈی) موجود ہو تو اسے جلد از جلد استعمال کریں۔اگر 2 افراد مدد کے لیے موجود ہوں تو ایک شخص سی پی آر شروع کرے جبکہ دوسرا ایمرجنسی سروسز کو کال کرے اور اے ای ڈی تلاش کرے۔ ایسے حالات میں ہر منٹ اہم ہوتا ہے۔ فوری مدد نہ ملنے پر ہر گزرتے منٹ کے ساتھ زندہ بچنے کے امکانات کم ہوتے جاتے ہیں۔
ہارٹ اٹیک میں دل تک خون کی فراہمی متاثر ہوتی ہے
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق ہارٹ اٹیک اس وقت ہوتا ہے جب دل کے کسی حصے تک خون کی فراہمی رک جاتی ہے۔ عموماً ایسا خون کی فراہمی کرنے والی کسی اہم شریان کے بند ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔اگر خون کے بہاؤ میں پیدا ہونے والی رکاوٹ کو جلد دور نہ کیا جائے تو دل کے اس حصے کے خلیات متاثر ہونا شروع ہوسکتے ہیں جسے مناسب مقدار میں خون نہیں مل رہا ہوتا۔ ہارٹ اٹیک کی علامات اچانک ظاہر ہوسکتی ہیں۔ ان میں سینے میں درد یا دباؤ، جسم کے اوپری حصے میں تکلیف، سانس لینے میں دشواری، ٹھنڈا پسینہ آنا، متلی یا قے جیسی علامات شامل ہوسکتی ہیں۔ بعض اوقات علامات آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہیں اور کئی گھنٹوں یا دنوں تک برقرار رہ سکتی ہیں۔
ہارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ میں بنیادی فرق
کارڈیک اریسٹ کے برعکس ہارٹ اٹیک کے دوران دل عام طور پر دھڑکتا رہتا ہے۔ تاہم جتنی دیر تک ہارٹ اٹیک میں طبی امداد حاصل کرنے میں تاخیر ہوگی، دل کو اتنا ہی زیادہ نقصان پہنچنے کا خطرہ ہوگا۔ہارٹ اٹیک کسی بھی شخص کو ہوسکتا ہے۔ خواتین، ذیابیطس کے مریضوں اور بزرگ افراد میں علامات ہمیشہ واضح نہیں ہوتیں۔ بعض اوقات انہیں سینے میں درد بھی محسوس نہیں ہوتا۔ اس لیے اگر ہارٹ اٹیک کا شبہ ہو تو یقین نہ ہونے کے باوجود فوری طور پر مقامی ایمرجنسی سروس سے رابطہ کرنا چاہیے۔
ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچنا بہتر
ایسی صورتحال میں سب سے بہتر قدم مقامی ایمرجنسی نمبر پر کال کرنا ہے تاکہ مریض کو فوری طور پر ایمرجنسی روم پہنچایا جاسکے۔ ایمرجنسی میڈیکل سروس کے اہلکار مریض تک پہنچتے ہی ابتدائی علاج شروع کرسکتے ہیں۔سینے میں درد کی شکایت کے ساتھ ایمبولینس کے ذریعے اسپتال پہنچنے والے مریضوں کو عام طور پر اسپتال میں بھی فوری علاج ملنے کا امکان ہوتا ہے۔ اس لیے ہارٹ اٹیک یا کارڈیک اریسٹ کی علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے بروقت طبی مدد حاصل کرنا انتہائی اہم ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
