خلیج بنگال سے اٹھنے والے موسمی نظام ’ارنَب‘ اور گزشتہ 48 گھنٹوں سے جاری موسلا دھار بارش نے اتر پردیش کے کئی اضلاع میں تباہی مچا دی ہے۔ دارالحکومت لکھنؤ سے لے کر گونڈا، شراوستی، فتح پور، مئو، اناو اور بدایوں تک بارش نے معمولاتِ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ کہیں بڑے بڑے درخت جڑ سے اکھڑ کر لوگوں پر جا گرے تو کہیں کچے مکانات اور تاریخی عمارتوں کے حصے اچانک منہدم ہو گئے۔ مختلف حادثات میں کئی افراد کی موت ہوئی ہے، جبکہ متعدد افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ دوسری جانب ندیوں کے پانی کی سطح بڑھنے سے کئی علاقوں میں سیلاب اور کٹاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ کھیتوں میں کھڑی خریف کی فصلیں پانی میں ڈوبنے سے کسانوں کی تشویش مزید بڑھ گئی ہے۔
گونڈا اور شراوستی میں درخت گرنے سے اموات
گونڈا: دھانے پور تھانہ علاقے میں شکلا گنج-ریہرا سڑک پر ایک بڑا درخت اچانک موٹر سائیکل سواروں پر جا گرا۔ حادثے میں بلرام پور کے رہنے والے 35 سالہ عمران اور 33 سالہ خالد کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
شراوستی: سونوا علاقے کے لونین پوروا گاؤں میں چھپر کے نیچے بیٹھے ایک خاندان پر قریب کا پرانا درخت گر گیا۔ درخت اور ملبے کے نیچے دبنے سے ایک شخص کی موت ہو گئی، جبکہ پانچ دیگر افراد شدید زخمی ہو گئے۔
فتح پور میں 72 کچے مکانات منہدم
فتح پور میں مسلسل بارش کے باعث اب تک تقریباً 72 کچے مکانات منہدم ہو چکے ہیں۔ ایک مکان کے ملبے تلے دبنے سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی، جبکہ اس کا بڑا بھائی شدید زخمی ہو گیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ونئے پانڈے کے مطابق انتظامیہ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے۔ مئو کے پردہا علاقے میں تیز آندھی اور بارش کے دوران کچا مکان گرنے سے رینو سنگھ، مینو پٹیل اور پرنس سنگھ ملبے تلے دب گئے۔ مقامی لوگوں نے انہیں باہر نکال کر اسپتال پہنچایا۔ ادھر بدایوں کے سرساولی گاؤں میں بیماری کے باعث حال ہی میں فوت ہونے والے ہوری لال کا کچا مکان بھی مسلسل بارش کے سبب مکمل طور پر منہدم ہو گیا۔
لکھنؤ میں تاریخی دروازہ اور باؤنڈری وال بھی ڈھے گئی
دارالحکومت لکھنؤ میں بھی مسلسل بارش نے معمولاتِ زندگی درہم برہم کر دیے ہیں۔ نشات گنج میں تقریباً 100 سال پرانا برگد کا درخت جڑ سے اکھڑ گیا۔ درخت گرنے سے پارک کی باؤنڈری وال اور ایک گاڑی کو نقصان پہنچا۔ وہیں حسین آباد میں ست کھنڈا چوکی کے قریب ایک تاریخی دروازے کا اوپری حصہ اچانک گر گیا، جس کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی۔ پولیس نے احتیاطاً راستے پر بیریکیڈنگ کرکے آمدورفت بند کر دی۔ حالات کا جائزہ لینے کے لیے ضلع مجسٹریٹ اور میونسپل کمشنر نے پانی جمع ہونے والے علاقوں کا معائنہ کیا۔ انتظامیہ کی جانب سے مدد کے لیے ہیلپ لائن نمبر 1533 بھی جاری کیا گیا ہے۔
راپتی اور سئی ندی کا پانی بڑھا، کئی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ
شراوستی میں نیپال کے پہاڑی علاقوں میں ہو رہی موسلا دھار بارش کا اثر راپتی ندی پر بھی پڑ رہا ہے۔ ندی کی سطحِ آب خطرے کے نشان کی جانب بڑھ رہی ہے، جس کے باعث ساحلی علاقوں میں کٹاؤ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ اناو میں گزشتہ 36 گھنٹوں سے جاری بارش کے باعث سئی ندی کی سطحِ آب بڑھ گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں رسول پور بکیا سڑک پانی میں ڈوب گئی۔ آٹا بنتھر گاؤں میں کچا مکان گرنے سے چھ مویشی ہلاک ہو گئے، جبکہ کئی افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ جل نگم کے دفتر سمیت کئی سرکاری دفاتر بھی پانی میں ڈوب گئے ہیں۔
خریف کی فصلوں پر بھی تباہی کا خطرہ
ایٹا میں گنج روڈ پر ماں جانکی کالج کے قریب ایک ایکو کار بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ شدید بارش کے درمیان مقامی لوگوں نے ریسکیو آپریشن کرکے گاڑی میں سوار افراد کو باہر نکالا۔ دوسری جانب بدایوں سمیت مغربی اور وسطی اتر پردیش کے کئی علاقوں میں دھان، مکئی، باجرا، اڑد اور تل جیسی خریف کی کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئی ہیں۔ اس سے کسانوں کو بھاری نقصان کا خدشہ ہے۔ محکمہ زراعت نے بیمہ شدہ کسانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ فصلوں کو ہونے والے نقصان کی فوری اطلاع ٹول فری نمبر 14447 پر دیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



