Bharat Express DD Free Dish

CBSE’s Three-Language Policy: سی بی ایس ای کی تین زبانوں کی پالیسی اور کتابوں میں تاخیر سے نویں جماعت کے طلبہ پر اس کا کیا اثر پڑے گا ؟

29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے تفصیلی رہنما ہدایات جاری کیں اور ساتویں سے نویں جماعت کے موجودہ طلبہ کے لیے عبوری انتظامات بھی فراہم کیے۔ اس سے ان والدین کو کچھ راحت ملی، جو کئی ہفتوں سے پالیسی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

نئی دہلی : 2026 میں نویں جماعت کے طلبہ کو جو تعلیمی سال ملا ہے، اس میں کچھ ایسا ہے جیسے شیکسپیئر کا کوئی ڈراما ہو۔ تعلیمی سال کا آغاز ہی زبانوں کے معاملے پر ہلچل سے ہوا۔9 اپریل کو سی بی ایس ای نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے کہا کہ آر 3 یعنی تیسری زبان نویں جماعت کی سطح پر 2029-2030 کے تعلیمی سیشن تک لاگو نہیں ہوگی۔ لیکن بمشکل 5 ہفتے بعد، 15 مئی کو ایک اور سرکلر جاری کیا گیا، جس میں نویں جماعت کے طلبہ کے لیے یکم جولائی سے 3 زبانیں پڑھنا لازمی قرار دیا گیا، جن میں کم از کم 2 ہندوستانی زبانیں ہونی چاہئیں۔اچانک ہونے والی اس تبدیلی نے طلبہ، والدین اور اسکولوں کو یہ سمجھنے میں الجھا دیا کہ پہلے سے تعلیمی نظام میں موجود بچوں پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ بالآخر اس معاملے کو قانونی چیلنج بھی کیا گیا۔والدین نے ایک سادہ سا سوال اٹھایا کہ جو بچے پہلے ہی ساتویں سے نویں جماعت میں پہنچ چکے ہیں، انہیں ایسی پالیسی کی منتقلی کا حصہ کیوں بنایا جائے، جو ان کے تعلیمی سفر شروع ہونے کے بعد متعارف کرائی گئی ہے، خاص طور پر جب ان میں سے کچھ نے چھٹی جماعت میں ہی غیر ملکی زبان کا انتخاب کرلیا تھا؟

29 جون کو سی بی ایس ای نے تین زبانوں کی پالیسی کے حوالے سے تفصیلی رہنما ہدایات جاری کیں اور ساتویں سے نویں جماعت کے موجودہ طلبہ کے لیے عبوری انتظامات بھی فراہم کیے۔ اس سے ان والدین کو کچھ راحت ملی، جو کئی ہفتوں سے پالیسی کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔

تین زبانوں کی پالیسی کے ساتھ کتابوں کا مسئلہ بھی سامنے آیا

زبانوں کی پالیسی سے متعلق الجھن کے ساتھ ہی ایک اور مسئلہ بھی سامنے آنے لگا، وہ تھا نصابی کتابوں کی دستیابی کا۔نویں جماعت کے نئے نصاب کے ساتھ این سی ای آر ٹی کی نئی نصابی کتابیں بھی متعارف کرائی گئیں۔ تاہم تعلیمی سیشن اپریل میں شروع ہونے کے وقت تمام کتابیں دستیاب نہیں تھیں۔ کتابیں مرحلہ وار پہنچیں اور ریاضی اور سماجی علوم کی پارٹ 1 کی کتابیں بھی طلبہ کو بعد میں مل سکیں۔ستمبر تک والدین ایک اور بنیادی سوال پوچھنے لگے کہ ریاضی اور سماجی علوم کی پارٹ 2 کی کتابیں کہاں ہیں؟

جواب یہ تھا کہ یہ کتابیں ابھی دستیاب نہیں ہوئی تھیں۔ ریاضی کی پارٹ 2 کی کتاب 21 ستمبر اور سماجی علوم کی پارٹ 2 کی کتاب 30 ستمبر کو جاری کیے جانے کا شیڈول تھا۔والدین نے کتابوں کی تاخیر کے معاملے پر وزارت تعلیم اور سی بی ایس ای کو باضابطہ طور پر خط بھی لکھا۔ اس مسئلے کی آزادانہ طور پر بھی رپورٹنگ ہوئی، جس میں والدین اور اسکول سربراہان نے بتایا کہ مقررہ کتابوں کے بغیر نئے نصاب کی منصوبہ بندی اور اسے مکمل کرنا مشکل ہو رہا ہے۔شیکسپیئر نے اپنے ڈرامے ’As You Like It‘ میں لکھا تھا کہ ’’ساری دنیا ایک اسٹیج ہے۔‘‘ موجودہ نویں جماعت کے طلبہ کے لیے بھی یہ سال کسی اسٹیج سے کم محسوس نہیں ہوتا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس ڈرامے میں اداکاروں کو نیا نصاب، 3 زبانوں کی نئی کہانی، تبدیل شدہ نصابی ڈھانچہ تو دے دیا گیا، لیکن دوسرے ایکٹ کے لیے ضروری سامان ہی موجود نہیں تھا۔لیکن بچے اس وقت اسٹیج سے اتر کر الگ نہیں ہوسکتے جب یہ پورا انتظام مشکل میں پڑ جائے۔ انہیں کلاس میں جانا ہے، ٹیسٹ دینے ہیں، اسائنمنٹس مکمل کرنے ہیں، امتحانات کی تیاری کرنی ہے، نصاب ختم کرنا ہے اور اس کے بعد دسویں جماعت میں داخل ہونا ہے۔

والدین وضاحت چاہتے ہیں

بچوں، والدین، اساتذہ اور اسکولوں کے لیے اس سال مسلسل جاری ہونے والے نوٹیفکیشن، وضاحتوں اور عبوری انتظامات کو سمجھنا ایک بڑا چیلنج رہا۔ تین زبانوں کی پالیسی کے نفاذ کے دوران یہ سوال بھی اٹھے کہ بچے کن زبانوں کا انتخاب کرسکتے ہیں، پہلے سے غیر ملکی زبان پڑھنے والے طلبہ کے ساتھ کیا ہوگا اور نئی شرائط موجودہ بیچ پر کس طرح لاگو ہوں گی۔والدین کے لیے وضاحت طلب کرنا فطری تھا۔ کسی بچے کی زبان کا انتخاب اس کے زیر تعلیم مضامین، اسکول میں دستیاب اساتذہ اور اس بات پر اثر ڈال سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں کیا پڑھنا جاری رکھنا چاہتا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ نصابی کتابوں کی دستیابی کا سوال بھی نیا نہیں تھا۔

دسمبر 2025 میں سی بی ایس ای کی گورننگ باڈی نے قومی نصابی فریم ورک برائے اسکولی تعلیم 2023 میں تجویز کردہ نویں اور دسویں جماعت کے لیے تین زبانوں کے فارمولے، یعنی آر 1، آر 2 اور آر 3، کے نفاذ پر غور کرتے ہوئے اس کا تعلق این سی ای آر ٹی کی نصابی کتابوں کی دستیابی سے جوڑا تھا۔میٹنگ کی کارروائی میں درج کیا گیا تھا کہ مختلف سطحوں پر درکار علاقائی زبانوں کی نصابی کتابیں ابھی مرکزی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔ اس لیے تجویز دی گئی تھی کہ این سی ای آر ٹی کی جانب سے درجہ وار نصابی کتابیں جاری کیے جانے تک اسکول موجودہ نظام تعلیم، خاص طور پر زبانوں کے حوالے سے، جاری رکھیں۔ بعد میں گورننگ باڈی نے نصابی کمیٹی کی سفارش کی توثیق بھی کردی۔

دسمبر کا یہ فیصلہ زبانوں کی نصابی کتابوں سے متعلق تھا، نہ کہ بعد میں نویں جماعت کی ریاضی اور سماجی علوم کی کتابوں کی دستیابی میں ہونے والی تاخیر سے۔ تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نصاب میں تبدیلی نافذ کرتے وقت سی بی ایس ای نے خود نصابی کتابوں کی دستیابی کو ایک اہم معاملہ تسلیم کیا تھا۔ایسے میں سوال یہ ہے کہ جب کتابوں کی دستیابی کو پہلے ہی نصاب میں تبدیلی کے نفاذ کے لیے اہم قرار دیا جاچکا تھا، تو ستمبر تک نویں جماعت کے طلبہ کو 2 بنیادی مضامین کی پارٹ 2 کی کتابوں کا انتظار کیوں کرنا پڑا؟

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read