نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے خلاف ہتکِ عزت کے مقدمے میں بدھ کو سپریم کورٹ میں جلد سماعت کی درخواست کی گئی۔ اس پر چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا کہ عدالت کے سامنے سب برابر ہیں۔ انہوں نے راہل گاندھی کے خلاف زیرِ سماعت فوجداری ہتکِ عزت کے مقدمے کے شکایت کنندہ سے کہا کہ اگر وہ معاملے کی جلد سماعت چاہتے ہیں تو اس کے لیے مناسب درخواست دائر کریں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ اس کے لیے تمام فریق یکساں ہیں۔سپریم کورٹ میں چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوی مالیا باگچی اور جسٹس وی. موہنا کی بنچ نے اس بات پر زور دیا کہ عدالت کے سامنے سب برابر ہیں اور شکایت کنندہ سے قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنے کو کہا۔شکایت کنندہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔ سپریم کورٹ میں شکایت کنندہ کی جانب سے پیش ہوئے سینئر ایڈووکیٹ گورو بھاٹیہ نے کہا کہ راہل گاندھی کوئی VVIP نہیں ہیں اور مجسٹریٹ کی جانب سے مقدمے کا نوٹس لینے کے خلاف راہل گاندھی کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر اپیل گزشتہ 5 ماہ سے سماعت کے لیے فہرست میں شامل نہیں کی گئی ہے۔
’وہ کوئی VVIP نہیں ہیں‘
گورو بھاٹیہ نے کہا، ’’وہ کوئی VVIP نہیں ہیں۔ معاملہ 5 ماہ پہلے بھی فہرست میں شامل کیا گیا تھا، لیکن اس پر سماعت نہیں ہوئی۔ یہ ادارے کے لیے بھی اچھی بات نہیں ہے۔‘‘اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا، ’’ہمیں طریقۂ کار پر عمل کرنے دیں۔ جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کریں۔ ہمارے لیے سب برابر ہیں۔ براہ کرم جلد سماعت کے لیے درخواست دائر کریں۔ ہم اس پر سماعت کریں گے۔‘‘
کیا ہے راہل گاندھی سے جڑا یہ معاملہ؟
راہل گاندھی کے خلاف فوجداری ہتکِ عزت کا یہ معاملہ ان کے اس بیان سے متعلق ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’اروناچل پردیش میں چینی فوجی بھارتی فوج کے جوانوں کی پٹائی کر رہے ہیں۔‘‘ راہل گاندھی نے یہ بیان لائن آف ایکچوئل کنٹرول (LAC) پر چین کی سرگرمیوں کو لے کر حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دیا تھا۔
جج نے راہل سے کیا سوال کیا تھا؟
اس سے قبل جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی بنچ نے راہل گاندھی کے خلاف اس معاملے پر روک لگا دی تھی۔ بنچ نے ان سے یہ بھی سوال کیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں ایسے مسائل اٹھانے کے بجائے سوشل میڈیا پر بیان کیوں دے رہے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا ان کے بیانات کسی قابلِ اعتماد معلومات کی بنیاد پر تھے۔راہل گاندھی کی اپیل الہ آباد ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر کی گئی تھی، جس میں لکھنؤ کی عدالت کی جانب سے راہل گاندھی کو اس معاملے میں جاری کیے گئے سمن کو درست قرار دیا گیا تھا۔یہ معاملہ بارڈر روڈز آرگنائزیشن کے سابق ڈائریکٹر ادے شنکر سریواستو کی جانب سے وکیل وویک تیواری کے ذریعے دائر شکایت سے متعلق ہے۔
راہل گاندھی پر کیا الزام ہے؟
ایڈووکیٹ وویک تیواری نے الزام لگایا کہ 9 دسمبر 2022 کو بھارتی اور چینی فوج کے درمیان ہوئی جھڑپ کے بارے میں 16 دسمبر 2022 کو راہل گاندھی کا دیا گیا بیان بھارتی فوج کے لیے توہین آمیز اور ہتکِ عزت پر مبنی تھا۔ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ آلوک ورما نے ہتکِ عزت کے مقدمے میں راہل گاندھی کو 24 مارچ کو سماعت کے لیے پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کو چیلنج کرتے ہوئے راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
راہل گاندھی سپریم کورٹ کیوں پہنچے؟
الہ آباد ہائی کورٹ نے راہل گاندھی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ CrPC کی دفعہ 199(1) کے تحت ایسا شخص جو کسی جرم کا براہِ راست متاثرہ نہیں ہے، اسے بھی ’’متاثرہ شخص‘‘ تصور کیا جا سکتا ہے، اگر اس جرم کی وجہ سے اسے نقصان پہنچا ہو یا اس پر منفی اثر پڑا ہو۔اس کے بعد راہل گاندھی نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ کا رخ کیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


