کابل: مشرقی افغانستان کے صوبہ نورستان میں پیر کے روز موسلا دھار بارش کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ اس قدرتی آفت میں اب تک کم از کم 20 افراد ہلاک، تقریباً 80 زخمی جبکہ 100 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔ افغانستان کے قومی ادارہ برائے آفاتِ قدرتی کے ترجمان یوسف حماد نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ سیلاب کے باعث صوبے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی محکمہ آفاتِ قدرتی کے اہلکار متاثرہ علاقوں میں پہنچ چکے ہیں اور امدادی و ریسکیو کارروائیاں جاری ہیں۔ امدادی ٹیمیں لاشوں کو نکالنے، زخمیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ یوسف حماد نے کہا کہ ابتدائی سروے اور نقصانات کے مکمل جائزے کے بعد جانی و مالی نقصان کے سرکاری اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔
حکومت کا اظہارِ افسوس
افغان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی ایک بیان میں جاں بحق افراد کے اہلِ خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ متاثرین کو فوری مدد فراہم کی جا سکے۔ مقامی حکام کے مطابق صوبہ نورستان کا دارالحکومت پارون سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں متعدد مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
قدرتی آفات سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری
اس سے قبل 9 جون کو افغان حکام نے بتایا تھا کہ گزشتہ دس ہفتوں کے دوران اچانک آنے والے موسمی سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے نتیجے میں ملک بھر میں کم از کم 301 افراد ہلاک اور 385 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ قومی ادارہ برائے آفاتِ قدرتی کے ترجمان حافظ محمد یوسف حماد کے مطابق ان قدرتی آفات نے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، جس سے عوام کی روزی روٹی اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
تقریباً 2 ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ
انہوں نے بتایا کہ تقریباً 2 ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے، جبکہ 7 ہزار 187 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے علاوہ 580 کلومیٹر سڑکیں بہہ گئی ہیں اور 30 ہزار 300 ایکڑ سے زائد زرعی زمین اور فصلیں پانی میں ڈوب کر تباہ ہو چکی ہیں۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں ان قدرتی آفات کے نتیجے میں 18 ہزار 812 خاندان متاثر ہوئے ہیں، جنہیں فوری امداد اور بحالی کی ضرورت ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


